بہت زیادہ گرم چائے یا کافی غذائی نالی کو نقصان پہنچا کر کینسر کا خطرہ بڑھا سکتی ہے

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چائے اور کافی جیسے مشروبات اگر باقاعدگی سے بہت زیادہ گرم حالت میں پیے جائیں تو ان سے غذائی نالی کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: ہڈیاں مضبوط رکھنی ہیں تو صرف دودھ کافی نہیں، یہ غذائیں بھی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں

بی بی سی کے مطابق برطانیہ میں کی جانے والی ایک بڑی تحقیق میں تقریباً 10 لاکھ افراد کے اعداد و شمار کا جائزہ لینے کے بعد محققین نے بہت زیادہ گرم مشروبات اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی ہے۔

تحقیق کے مطابق جو افراد اپنی چائے یا کافی ’بہت گرم‘ حالت میں پیتے تھے ان میں اس کینسر کا خطرہ ’نیم گرم‘ یا نسبتاً کم گرم مشروبات پینے والوں کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ تھا۔

تاہم ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غذائی نالی کا یہ کینسر مجموعی طور پر ایک نسبتاً کم پایا جانے والا مرض ہے، اس لیے بہت گرم مشروبات سے خطرہ بڑھنے کے باوجود کسی فرد کے اس کینسر میں مبتلا ہونے کا مجموعی امکان کم رہتا ہے۔

محققین کے مطابق انتہائی گرم مائع غذائی نالی سے معدے کی طرف جاتے ہوئے اس کی اندرونی سطح پر موجود خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

کتنے گرم مشروبات خطرہ بن سکتے ہیں؟

آکسفورڈ یونیورسٹی کی یہ تحقیق ’انٹرنیشنل جرنل آف کینسر‘ میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق میں 65 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت والے مشروب کو ’بہت گرم‘ قرار دیا گیا اور اسے ممکنہ خطرے سے جوڑا گیا۔

تحقیق میں 9 لاکھ 77 ہزار 282 درمیانی عمر کے مردوں اور خواتین کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ 6 یا اس سے زیادہ گرم مشروبات پینا بھی غذائی نالی کے کینسر کے زیادہ خطرے سے منسلک تھا۔

مزید پڑھیے: ماں بننے کا سفر یا ذہنی جنگ؟ حمل کے دوران غذائی امراض کی پوشیدہ حقیقت

چائے یا کافی میں دودھ شامل کرنے سے مشروب کا درجہ حرارت کچھ کم ہو سکتا ہے، لیکن محققین کا کہنا ہے کہ دودھ والی چائے یا کافی بھی اس وقت بہت زیادہ گرم ہو سکتی ہے اگر اسے پینے سے پہلے مناسب حد تک ٹھنڈا نہ کیا جائے۔

مثلاً کیتلی میں پانی مکمل طور پر ابلنے کے بعد اس کا درجہ حرارت تقریباً 100 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے۔ اسی پانی سے فوری طور پر چائے یا کافی بنانے کے بعد کپ میں مشروب کا درجہ حرارت تقریباً 90 سے 95 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہ سکتا ہے۔

اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ بہت گرم چائے یا کافی پینے سے پہلے چند منٹ انتظار کیا جائے تاکہ وہ نسبتاً محفوظ اور آرام دہ درجہ حرارت تک ٹھنڈی ہو جائے۔

تاہم کینسر ریسرچ یو کے کے مطابق یہ بتانا مشکل ہے کہ کسی گرم مشروب کو کتنی دیر تک ٹھنڈا کیا جائے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو تشویش ہو تو اسے اس وقت تک انتظار کرنا چاہیے جب تک مشروب پینے کے لیے آرام دہ محسوس نہ ہو بجائے اس کے کہ اسے بہت گرم حالت میں پی لیا جائے۔

کتنی گرمی بہت زیادہ ہے؟

تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر کیرن پیپیئر کا کہنا ہے کہ جنوبی امریکا میں ہونے والی تحقیق پہلے ہی بہت گرم مشروبات اور غذائی نالی کے کینسر کے درمیان اسی طرح کے تعلق کی نشاندہی کر چکی ہے۔

جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں لوگ ’ماتے‘ نامی گرم جڑی بوٹیوں والا مشروب بہت زیادہ گرم درجہ حرارت پر پیتے ہیں اور وہاں اس حوالے سے پہلے بھی تحقیق کی جا چکی ہے۔

تاہم ڈاکٹر کیرن پیپیئر کے مطابق اب مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ کون سے مخصوص درجہ حرارت پر مشروبات پینے سے خطرہ بڑھتا ہے۔

ایک الگ تحقیق میں 118 نوجوان بالغ افراد نے مختلف درجہ حرارت پر بلیک کافی چکھی۔ اس تحقیق میں زیادہ تر افراد نے کافی کو اس وقت بہت زیادہ گرم قرار دیا جب اس کا درجہ حرارت 70 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ تھا۔

ایک کمپنی جو باہر لے جانے کے لیے کافی کے کپ تیار کرتی ہے، اس کے مطابق چلتے پھرتے پینے کے لیے گرم کافی کا موزوں درجہ حرارت تقریباً 49 سے 60 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے۔

مزید پڑھیں: خوراک خریدنے سے پہلے معلومات چیک کرنے والی ایپس واقعی صحت کے لیے فائدہ مند ہیں؟

تاہم اگر کوئی صارف کافی زیادہ گرم اور زیادہ دیر تک گرم رہنے والی طلب کرے تو اسے 82 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

مجموعی خطرہ کتنا ہے؟

محققین کا اندازہ ہے کہ اگر لوگ انتہائی گرم مشروبات پینا چھوڑ دیں تو غذائی نالی کے کینسر کے تقریباً ہر 10 میں سے ایک یا دو کیسز سے بچا جا سکتا ہے۔

غذائی نالی کے کینسر کی ایک قسم جسے اسکویمس سیل غذائی نالی کا کینسر کہا جاتا ہے، نسبتاً نایاب ہے اور برطانیہ میں ہر سال چند ہزار افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

برطانیہ میں کسی شخص کو زندگی میں اس قسم کے کینسر کی تشخیص ہونے کا مجموعی امکان تقریباً ایک فیصد ہے۔

اس لیے بہت زیادہ گرم مشروبات کسی شخص کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود اس کینسر میں مبتلا ہونے کا مجموعی امکان کم رہتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گرم مشروبات کے علاوہ غذائی نالی کے کینسر کے کئی دوسرے عوامل بھی ہیں اور ان میں سگریٹ نوشی زیادہ اہم خطرات میں شامل ہے۔

کینسر ریسرچ یو کے سے وابستہ فیونا اوسگن، جس ادارے نے اس تحقیق کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی، کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کینسر سے بچاؤ کے لیے سب سے اہم اقدامات میں سگریٹ نوشی ترک کرنا اور شراب نوشی کم کرنا شامل ہیں۔

غذائی نالی کے کینسر کی علامات کیا ہیں؟

ماہرین کے مطابق غذائی نالی کے کینسر کی ممکنہ علامات میں سینے یا گلے میں درد، سینے کی جلن، بدہضمی اور وزن میں کمی شامل ہو سکتی ہے۔

اگر ایسی علامات مسلسل موجود رہیں یا ان میں اضافہ ہو تو طبی ماہر سے مشورہ کرنا ضروری ہے۔

محققین کے مطابق موجودہ تحقیق کا مقصد یہ کہنا نہیں کہ ہر گرم چائے یا کافی نقصان دہ ہے، بلکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ بہت زیادہ گرم مشروبات کو باقاعدگی سے پینا غذائی نالی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیے: شدید گرمی میں کیا کھانا اور پینا چاہیے؟ ماہرین نے ہیٹ ویو کے دوران بہترین خوراک بتا دی

اس لیے چائے یا کافی کو انتہائی گرم حالت میں پینے کے بجائے چند منٹ انتظار کرکے اسے مناسب درجہ حرارت تک ٹھنڈا کرنا ایک آسان احتیاطی قدم ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp