دنیا بھر میں لوگ اب صرف قیمت یا ذائقے کی بنیاد پر خوراک خریدنے کے بجائے اس کے غذائی معیار، اجزا اور ممکنہ صحت کے اثرات کو بھی جانچنے لگے ہیں۔ اسی رجحان کے باعث ایسی موبائل ایپس تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں جو کھانے پینے کی اشیا کا بارکوڈ اسکین کرکے فوری طور پر بتاتی ہیں کہ متعلقہ مصنوعات صحت کے لیے کتنی بہتر یا نقصان دہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لیبلنگ کے اثرات: ہماری غذا ہمارے ہی خلاف کیسے کام کر رہی ہے؟
یہ ایپس کسی بھی خوراک کا بارکوڈ اسکین کرنے پر اس میں موجود چینی، نمک، چکنائی، فائبر، غذائی اجزا، مصنوعی اضافوں (ایڈیٹیوز) اور مجموعی غذائی معیار کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں۔ بعض ایپس سبز، زرد اور سرخ رنگ کے ذریعے صارف کو آسان انداز میں بتاتی ہیں کہ کون سی چیز بہتر انتخاب ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی صارفین کو زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ ہر ریٹنگ کو حتمی فیصلہ نہ سمجھا جائے بلکہ مجموعی غذائی عادات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
فرانس میں تیار کی گئی یوکا نامی ایپ اس وقت دنیا کی مقبول ترین فوڈ اسکیننگ ایپس میں شمار ہوتی ہے جسے 12 ممالک میں تقریباً 8 کروڑ 50 لاکھ افراد استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے سب سے زیادہ صارفین امریکا میں ہیں جبکہ یورپ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
مزید پڑھیے: اب بھی وقت ہے غذا اچھی طرح چبا کر کھائیں، جانیے بہتر ہاضمے کے علاوہ اس عمل کے ’بونس‘ فوائد
فرانس میں مقیم ایک خاتون نتھالی خریداری کے دوران اپنے بیٹے کے پسندیدہ بسکٹ اسکین کرتی ہیں تو ایپ اسے 0 میں سے 100 نمبر دیتی ہے اور خبردار کرتی ہے کہ اس میں زیادہ چینی، سیر شدہ چکنائی اور کئی مصنوعی اضافے موجود ہیں جن میں ایک ایسا جزو بھی شامل ہے جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ زیادہ مقدار میں استعمال ہڈیوں اور گردوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
نتھالی کا کہنا ہے کہ اب ان کا بیٹا ان کے ساتھ خریداری پر جانا پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ ہر چیز اسکین کرکے زیادہ صحت مند متبادل تلاش کرنے لگتی ہیں جس میں وقت بھی زیادہ لگتا ہے اور بسا اوقات نامیاتی (آرگینک) مصنوعات نسبتاً مہنگی بھی پڑتی ہیں۔
ایپس کیسے کام کرتی ہیں؟
یہ ایپس لاکھوں خوراکی مصنوعات کے ڈیٹا بیس سے منسلک ہوتی ہیں۔ بارکوڈ اسکین ہوتے ہی وہ غذائی معلومات، اجزا، مصنوعی اضافوں اور بعض صورتوں میں الٹرا پروسیسڈ فوڈ ہونے کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔
صارف اگر چاہے تو ہر جزو کے بارے میں تفصیلی معلومات بھی پڑھ سکتا ہے مثلاً وہ کس مقصد کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کے ممکنہ صحت پر کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔
کیا واقعی ان سے فائدہ ہوتا ہے؟
یوکا کے مطابق 2024 میں 20 ہزار صارفین پر کیے گئے ایک سروے میں 94 فیصد افراد نے بتایا کہ اگر کسی مصنوعات کو ایپ نے خراب ریٹنگ دی تو انہوں نے اسے واپس شیلف پر رکھ دیا اور کوئی بہتر متبادل منتخب کیا۔
مزید پڑھیں: آہستہ کھانا، زیادہ چبانا اور صحیح وقت پر کھانا کیوں ضروری ہے؟
اس رجحان کا اثر صرف صارفین تک محدود نہیں رہا بلکہ کئی فوڈ کمپنیاں بھی اپنی مصنوعات کے اجزا تبدیل کرنے پر مجبور ہوئی ہیں۔
فرانس کی بڑی سپر مارکیٹ چین انٹرمارشے کا کہنا ہے کہ اس نے سنہ 2017 سے اب تک اپنی 3 ہزار سے زائد مصنوعات کی ترکیب تبدیل کی ہے اور تقریباً 160 مصنوعی اضافے ختم کیے ہیں تاکہ ان کی مصنوعات زیادہ صحت مند سمجھی جائیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق ایسی ایپس لوگوں کو بہتر انتخاب کرنے میں ضرور مدد دیتی ہیں لیکن ہر شخص خریداری کے دوران اتنا وقت یا دلچسپی نہیں رکھتا کہ ہر چیز اسکین کرے۔
لندن کی سٹی سینٹ جارجز یونیورسٹی کے فوڈ پالیسی کے ماہر ڈاکٹر کرسچن رینالڈز کا کہنا ہے کہ خوراک سے متعلق معلومات فراہم کرنے والی ٹیکنالوجی مفید ضرور ہے لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں کیونکہ زیادہ تر لوگ روزمرہ خریداری عادت کے مطابق کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: زبردستی نہیں ٹیکنیک استعمال کریں: بچے سبزیاں نہیں کھاتے تو یہ مؤثر طریقے اپنائیں
اسی طرح غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی ایپس زیادہ تر تعلیم یافتہ یا ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے افراد تک محدود رہتی ہیں جبکہ وہ طبقات جو ناقص غذا سے متعلق بیماریوں کے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں اکثر ان سہولیات سے کم فائدہ اٹھا پاتے ہیں۔
صحت مند خریداری کے لیے چند آسان مشورے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ فوڈ اسکیننگ ایپس مفید ثابت ہو سکتی ہیں لیکن تاہم صحت مند غذا کے لیے چند بنیادی اصول ہمیشہ اہم رہتے ہیں جیسے کہ خریداری سے پہلے غذائی لیبل ضرور پڑھیں، چینی، نمک اور سیر شدہ چکنائی والی مصنوعات کا استعمال محدود رکھیں، تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور کم پراسیس شدہ غذائیں ترجیح دیں اور صرف ایک ریٹنگ پر انحصار کرنے کے بجائے متوازن غذا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
مزید پڑھیں: نئی شروعات کا راز: صرف ایک دن بدلنے سے عادتیں اور زندگی کیسے بدل سکتی ہے؟
ماہرین کے مطابق مستقبل میں مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خوراک کے انتخاب کو مزید آسان بنا سکتی ہے تاہم اچھی صحت کا دارومدار اب بھی متوازن غذا، مناسب ورزش اور صحت مند طرزِ زندگی پر ہی ہے۔














