غیر ملکی بشمول افغان طلبا سے متعلق فیصلہ ملکی امیگریشن پالیسی کا حصہ، پی ایم اینڈ ڈی سی پر تنقید بلا جواز قرار

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم اینڈ ڈی سی ) کے حوالے سے حکام نے واضح کیا ہے کہ غیر ملکی بشمول افغان طلبہ کے داخلوں پر پابندی کوئی امتیازی سلوک نہیں بلکہ ملکی امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے۔

امیگریشن سے متعلق حکام نے واضح کیا ہے کہ ملک کے امیگریشن قوانین کے مطابق بغیر درست قانونی اور سفری دستاویزات کے کسی بھی غیر ملکی کو محض تعلیمی اداروں میں داخلے کی بنیاد پر پاکستان میں رہائش اور تعلیم کا حق نہیں دیا جا سکتا۔

پی ایم اینڈ ڈی سی پر تنقید بلاجواز

حکام کے مطابق پی ایم ڈی پی ایم اینڈ ڈی سی کی جانب سے جاری کردہ حالیہ ہدایات کو وسیع تر قومی امیگریشن پالیسی کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں:غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے لیے ویزا قوانین میں تبدیلی کے خلاف امریکی یونینز نے عدالت سے رجوع کرلیا

یہ ایک پیشہ ورانہ ریگولیٹر کا انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ ریاستی قوانین پر عملدرآمد کی ایک کڑی ہے۔ اس لیے ایک ریاستی پالیسی نافذ کرنے پر محض پی ایم اینڈ ڈی سی کو تنقید کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔

قانونی حیثیت بنیادی شرط

حکام کے مطابق اس معاملے کا بنیادی نکتہ کسی خاص ملک کی شہریت یا امتیازی سلوک نہیں بلکہ طلبا کی قانونی حیثیت ہے۔

پاکستان میں زیر تعلیم تمام غیر ملکیوں کے پاس درست سفری دستاویزات اور یہاں قیام کا قانونی اجازت نامہ ہونا لازمی ہے۔

کوئی بھی غیر قانونی تارک وطن محض کسی تعلیمی ادارے میں داخلہ ملنے کی بنیاد پر پاکستان میں تعلیم اور رہائش کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

ریاستی رٹ اور تعلیمی ادارے

حکام کے مطابق پاکستان ایک خود مختار ریاست ہے اور اسے یہ مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی حدود میں داخل ہونے، رہائش پذیر ہونے اور تعلیم حاصل کرنے والوں کے حوالے سے قواعد و ضوابط طے کرے۔

کوئی بھی تعلیمی ادارہ ملکی امیگریشن قوانین سے بالاتر ہو کر کام نہیں کر سکتا اور نہ ہی پیشہ ورانہ تعلیم کے نام پر ریاستی تقاضوں کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔

بین الاقوامی  قانونی اصول

حکام کے مطابق قومی سلامتی، امیگریشن اور خارجہ پالیسی کے پیش نظر غیر ملکی طلبہ کے ویزوں اور تعلیم پر پابندیاں کوئی انوکھی بات نہیں۔

مزید پڑھیں:کینیڈا کی نئی امیگریشن پالیسی: غیر ملکی طلبہ میں کمی، ماہرین کے لیے خصوصی طریقہ کار متعارف

اس حوالے سے واضح بین الاقوامی قوانین بھی موجود ہیں۔ 2017 کے خلیجی بحران کے دوران متحدہ عرب امارات نے قطری طلبہ  کے خلاف ایسے ہی اقدامات کیے تھے۔

اسی طرح 2022 کے بعد یورپی ممالک نے بھی روسی اور بیلاروسی شہریوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اگرچہ یہ حالات پاکستان سے مختلف ہیں، لیکن ان سے یہ اصول ثابت ہوتا ہے کہ وسیع تر ریاستی پالیسیوں کے اطلاق کے وقت غیر ملکی طلباء تعلیم جاری رکھنے کے غیر مشروط حق کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

زیر تعلیم طلبہ کا مستقبل اور انسانی ہمدردی

حکام کے مطابق جو طلبا پہلے ہی اپنی ڈگریوں کی تکمیل کے وسط میں ہیں، ان کے تعلیمی تسلسل اور انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:کرغستان میں غیر ملکی طلبہ پر حملہ، اصل معاملہ کیا ہے؟

ایسے طلبا کے لیے الگ سے انتظامی اور عبوری انتظامات پر غور کیا جا سکتا ہے، لیکن ایسے کسی بھی انتظام کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہیں ملکی امیگریشن قوانین سے خودکار طور پر استثنیٰ مل جائے۔

حتمی فیصلہ

حکام کے مطابق اصول بالکل سیدھا اور واضح ہے۔ جو غیر ملکی طلبہ قانونی حیثیت رکھتے ہیں، وہ پاکستانی قوانین کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں۔

تاہم غیر قانونی اور بغیر ویزہ مقیم افراد درست امیگریشن اجازت نامے کے بغیر تعلیم تک رسائی کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp