امریکی مزدور یونینز اور انسانی حقوق و فلاحی تنظیموں کے ایک اتحاد نے وفاقی حکومت کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس کا مقصد اس نئے قانون کو روکنا ہے جو غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے ویزے میں توسیع کی درخواست دیے بغیر امریکا میں رہنے کی مدت کو محدود کرتا ہے۔
میساچوسٹس کی امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں تنظیموں نے موقف اختیار کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں یونیورسٹیوں، بین الاقوامی طلبہ اور محققین کے لیے “تباہ کن‘ ثابت ہوں گی۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نئے قواعد و ضوابط کے تحت بین الاقوامی طلبہ کے لیے F ویزا، ثقافتی تبادلے کے پروگراموں پر انے والے غیر ملکیوں کے لیے J ویزا، اور میڈیا نمائندوں کے لیے I ویزا کی ایک مخصوص اور محدود مدت طے کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل یہ ویزے متعلقہ تعلیمی پروگرام یا ملازمت کی مکمل مدت تک کے لیے فراہم کیے جاتے تھے۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے
15 ستمبر سے نافذ العمل ہونے والے نئے قوانین کے تحت طلبہ اور ثقافتی تبادلے کے پروگراموں کے ویزوں کی حداکثر مدت 4 سال ہوگی۔ دوسری جانب صحافیوں کا ویزا، جو پہلے کئی برسوں کے لیے کارآمد ہوتا تھا، اب زیادہ سے زیادہ 240 دنوں کے لیے ہوگا، جبکہ چینی شہریوں کے معاملے میں یہ مدت محض 90 دن تک محدود کر دی گئی ہے۔
مقدمے میں تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ ’ان اقدامات کے باعث غیر ملکی طلبہ اور دیگر افراد امریکا آنے سے گریز کریں گے، کیونکہ ان میں اپنی تعلیم کے دوران ہی قانونی حیثیت ختم ہو جانے کا خوف پیدا ہو جائے گا۔‘

درخواست گزاروں کا مزید کہنا تھا کہ اس سے طلبہ کے مواقع ضائع ہوں گے، تعلیمی ادارے قابلیت و صلاحیتوں سے محروم ہو جائیں گے، اور عوام کو ان اربوں ڈالر کے معاشی فائدے سے ہاتھ دھونا پڑے گا جو امریکا کی سب سے بڑی برآمدات یعنی ‘تعلیم’ سے حاصل ہوتے ہیں۔
دوسری جانب، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ایک ترجمان نے اس مقدمے کو ’دکھاوا اور سیاسی ڈرامہ‘ قرار دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا ’اگر میڈیا واقعی باصلاحیت بین الاقوامی طلبہ کا خیر خواہ ہے، تو انہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جو وسیع پیمانے پر جاری دھوکہ دہی کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں تاکہ صرف وہی لوگ امریکا آئیں جو سچ مچ تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘ تاہم، ترجمان نے ویزا عمل میں مبینہ دھوکہ دہی کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیے امریکی ویزا پالیسی میں نئی تبدیلی، غیر ملکی صحافیوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کا فیصلہ
امریکا کی ‘نیوز گلڈ سی ڈبلیو اے’ کے صدر جان شلیوس نے اس نئے قانون کو صحافیوں پر راست حملہ قرار دیا ہے۔
اساتذہ کی قومی یونین ‘امریکن فیڈریشن آف ٹیچرز’ کی صدر رینڈی وائن گارٹن نے کہا کہ امریکا اپنے سیاسی مقاصد کے لیے خود اپنے قوانین کو پامال کر رہا ہے اور بین الاقوامی طلبہ کو مہرے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے امریکیوں اور امریکی تجارتی اداروں کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ’ٹرمپ انتظامیہ کا علم اور تعلیم پر یہ تازہ ترین حملہ بین الاقوامی محققین کی تعلیم کی مدت پر بلاجواز پابندیاں عائد کرتا ہے، جس سے طلبہ کے لیے ایک خوشگوار اور خوش آئند ماحول اب ایک جارحانہ شکل اختیار کر سکتا ہے۔‘













