عمران خان شروع دن سے چھوٹے صوبوں کے حق میں ہیں، حکومت مذاکرات کا دروازہ کھولے، ریاض فتیانہ

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کے حمایت یافتہ سینیئر رہنما ریاض فتیانہ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان شروع دن سے چھوٹے صوبوں کے قیام کے حق میں ہیں، لہٰذا حکومت کو ان کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولنا چاہیے۔ سیاسی قیدیوں کی رہائی سے پارٹی کو نئے صوبوں کے قیام پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔

‘وی ایکسکلوسیو’ میں گفتگو کرتے ہوئے سینیئر رہنما ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ان کی موجودگی میں جو گفتگو کی، اس کے مطابق وہ شروع دن سے چھوٹے صوبوں کے قیام کے حامی رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس بات کے دستاویزی شواہد موجود ہیں اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر بھی اس حوالے سے واضح مؤقف دے چکے ہیں کہ جماعت چھوٹے صوبوں کے حق میں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیپلز پارٹی دہرا معیار ختم کرے، نئے صوبوں کا قیام تقسیم نہیں، عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ریحام خان

ریاض فتیانہ کے بقول اصل رکاوٹ اعتماد کے فقدان کی ہے اور اگر سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے تو پی ٹی آئی کو نئے صوبوں کے قیام کے لیے قائل کیا جا سکتا ہے۔

مئی 2025 کی جنگ، ‘ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور رہیں گے

ریاض فتیانہ نے کہا کہ مئی 2025 کی جنگ کے دوران پی ٹی آئی پاکستان کے ساتھ کھڑی تھی اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کا کسی ادارے سے جھگڑا ہے اور نہ بداعتمادی، تاہم غلطیوں کا امکان بھی موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملکی معاشی استحکام کے لیے مذاکرات کیے جائیں، جن کے نتیجے میں چھوٹے صوبے بھی وجود میں آ جائیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

خفیہ رائے شماری میں حکومتی اتحادی بھی نئے صوبوں کے حق میں ووٹ دیں گے، دعویٰ

پی ٹی آئی رہنما نے دعویٰ کیا کہ سیاسی جماعتوں میں موروثیت سے عوام تنگ آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر نئے صوبوں کے معاملے پر خفیہ رائے شماری کرائی جائے تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے متعدد اراکینِ اسمبلی اپنی ہی جماعتوں کے خلاف ووٹ دینے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

پنجاب کے 5 صوبے فوری بنانے کا مطالبہ

ریاض فتیانہ نے انتظامی امور کو سہل بنانے کے لیے چھوٹے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ پنجاب کو فی الفور 5 صوبوں میں تقسیم کیا جائے۔

انہوں نے مثال دی کہ بھارت میں پنجاب کو ہماچل پردیش، ہریانہ اور وفاقی دارالحکومت دہلی میں تقسیم کیا جا چکا ہے، جبکہ پاکستانی پنجاب میں ایسا نہیں کیا گیا، حالانکہ یورپ کے کئی ممالک کی آبادی پنجاب سے بھی کم ہے۔

مزید پڑھیں:نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوگیا، بڑے صوبوں سے اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے، مصطفیٰ کمال

ان کے بقول نئے صوبوں کے قیام کو انا کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ عوامی رائے جاننے کے لیے ریفرنڈم کرایا جانا چاہیے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک کے چاروں صوبائی دارالحکومت  ملک کے کونوں پر واقع ہیں اور اپنے ہی صوبوں کے دیگر علاقوں سے کافی دور ہیں۔

18 ویں ترمیم اور اختیارات کی عدم منتقلی

انہوں نے کہا کہ 18 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے وفاق سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے، جنہیں آگے بلدیاتی اداروں تک پہنچنا تھا، مگر آئین پر عملدرآمد نہیں ہو سکا اور صوبائی حکومتوں نے تمام اختیارات اپنے پاس رکھے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے عوام کی موجودہ نظام میں شمولیت نہ ہونے کے باعث معاشرے میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ریاض فتیانہ نے یاد دلایا کہ پنجاب اسمبلی میں نئے صوبوں کی قراردادیں منظور ہو چکی ہیں۔

 خیبرپختونخوا میں نئے صوبے کی تحریک کے دوران احتجاج میں جانی نقصان بھی ہوا، جبکہ سندھ میں بھی ایسی ہی صورتحال ہے، تاہم بعض حلقے اپنے مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات میں کمی نہیں چاہتے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ 2012 میں قومی اسمبلی میں چھوٹے صوبوں سے متعلق بل پیش کر چکے ہیں جو آج بھی موجود ہے،ان کا کہنا ہے کہ وہ شروع دن سے اس مؤقف کے حامی ہیں۔

محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے

ریاض فتیانہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا بڑا سیاسی بحران یہ ہے کہ سیاسی حکومتیں عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہیں۔

 انہوں نے اعتراف کیا کہ ملک میں سیاسی بحران موجود ہے، انہوں نے اپنی جماعت پی ٹی آئی کو بھی مشورہ دیا کہ محاذ آرائی کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے اور ماضی کو بھلا کر آگے بڑھا جائے۔

ان کے بقول یہ مذاکرات دشمنوں کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی لوگوں کے ساتھ ہیں اور پی ٹی آئی قیادت بارہا مثبت مذاکرات کے حق میں اپنے مؤقف کا اظہار کر چکی ہے۔

آئندہ سال کا بڑا سیاسی امکان کیا ہو سکتا ہے؟

ایک سوال کے جواب میں ریاض فتیانہ نے کہا کہ ان کی رائے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوا تو ایک بڑی اپوزیشن سامنے آ سکتی ہے، جس کے آثار پہلے ہی نظر آ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کا قیام، این ایف سی ایوارڈ فارمولے میں تبدیلی، رانا ثنااللہ کھل کر بول پڑے

انہوں نے مرحوم نوابزادہ نصراللہ خان کو خراجِ تحسین پیش کیا، جو ماضی میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کرایا کرتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہو تو مذاکرات کامیاب ہو سکتے ہیں، تاہم گزشتہ 3 برسوں سے جاری مذاکرات کی خبروں کے باوجود کوئی نتیجہ سامنے نہ آنے کی وجہ شاید یہ ہے کہ وفاقی، سندھی اور پنجابی حکومتیں خود مذاکرات کی کامیابی نہیں چاہتیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ٹربیونلز میں زیرِ التوا دھاندلی کے مقدمات کھول دیے جائیں تو یہ حکومتیں آج ہی ختم ہو جائیں گی، انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات ہونے چاہییں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp