پیپلز پارٹی دہرا معیار ختم کرے، نئے صوبوں کا قیام تقسیم نہیں، عوام کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے، ریحام خان

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف اینکر و تجزیہ کار ریحام خان نے کہا ہے کہ کراچی ملک کا سب سے اہم پورٹ سٹی اور اقتصادی اثاثہ ہے۔ تاہم انتظامی نااہلی اور اختیارات کی عدم منتقلی کے باعث یہ شہر اور پورا صوبہ تباہی کا شکار ہے۔

کراچی میں نئے انتظامی یونٹس، بلدیاتی نظام اور صوبائی ساخت کے موضوع پر منعقدہ ایک مباحثے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ اس بحث کا آغاز کراچی سے اس لیے کیا گیا کیونکہ یہ ملک کی معیشت کی شہ رگ اور واحد پورٹ سٹی ہے۔ پشاور، لاہور یا مانسہرہ تک جانے والا ہر مال کراچی ہی سے گزرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:اگر نئے صوبوں کا قیام کسی قرارداد کے ذریعے ہوا تو پیپلز پارٹی عوام کے ساتھ کھڑی ہوگی، سحر کامران

انہوں نے بتایا کہ ایران جنگ کے دوران دبئی کے بجائے پروازیں اور بحری جہاز کراچی ہی کی طرف موڑے جا رہے تھے۔ اس کے باوجود، کراچی سے سکھر تک شاہراہوں اور بنیادی ڈھانچے کی حالت ابتر ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بڑے شہر یا خطے کے پاس کراچی جیسی بندرگاہ نہیں، مگر اس شہر کے صنعتی علاقوں بشمول سائٹ، کورنگی، مانسہرہ کالونی، بھینس کالونی اور مشرف کالونی کی حالتِ زار انتہائی افسوسناک ہے۔

سندھ حکومت پر شدید تنقید

سندھ حکومت کی کارکردگی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ریحام خان نے کہا کہ حکمران عوام کے نمائندے بننے کے بجائے ان پر راج کر رہے ہیں اور صوبے کو اپنی موروثی جائیداد سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہاں تک کہ سندھ اسمبلی میں بھی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت کراچی کی آبادی کے نام پر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے، مگر وہ نہ تو کراچی پر لگتی ہے اور نہ ہی دیہی سندھ، سکھر، مٹھی یا تھرپارکر کے غریب عوام پر خرچ کی جاتی ہے۔

پیپلز پارٹی پر دہرے معیار اپنانے کا الزام

تجزیہ کار نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب اور ہزارہ میں تو نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے اور جنوبی پنجاب میں وزیراعلیٰ لانے کی تیاریاں بھی کرتی ہے، لیکن جب بات کراچی کی انتظامی بہتری یا نئے یونٹس کی آئے تو اسے ‘تقسیم’ کا رنگ دے کر خوف پھیلایا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں:نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہوگیا، بڑے صوبوں سے اختیارات نچلی سطح تک نہیں پہنچ سکتے، مصطفیٰ کمال

انہوں نے واضح کیا کہ ‘ہم ملک کے بٹوارے کی نہیں، بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی اور عوامی سہولیات کی بات کر رہے ہیں’۔

چھوٹے انتظامی یونٹس اور بلدیاتی اداروں کی ضرورت

برطانیہ کے کونسل ٹیکس نظام کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں شہری ٹیکس دیتے ہیں تو بدلے میں انہیں کچرا اٹھانے، اسٹریٹ لائٹس، سیکیورٹی اور پارکنگ کی بہترین سہولیات ان کی دہلیز پر ملتی ہیں۔

ریحام خان کا کہنا تھا کہ شہری کے گھر سے تھانے، پانی کے دفتر اور بلڈنگ کنٹرول کے ادارے کا فاصلہ کم سے کم ہونا چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ میئر اور کونسلرز کے پاس نہ صرف اختیارات ہونے چاہییں، بلکہ ان کے پاس اپنا بجٹ اور مالیاتی کنٹرول بھی ہونا چاہیے۔

پنجاب کی 13 کروڑ آبادی یا خیبر پختونخوا کے وسیع و عریض علاقوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی ایک وزیراعلیٰ نہیں چلا سکتا۔ ‘یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے 60 ہزار مریضوں کے لیے صرف ایک ڈاکٹر موجود ہو’۔

عوامی مشاورت اور مکالمہ

ریحام خان نے کہا کہ کراچی میں بسنے والے تمام لسانی گروہ، بشمول پشتون اور سندھی، ایک ساتھ امن سے رہتے ہیں اور نئی نسل میں ایسی کوئی تفریق نہیں۔

ان کے مطابق، ‘سیاسی نواب اور بادشاہت قائم رکھنے والے عناصر اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے قومیتوں کو آپس میں لڑاتے ہیں’۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ فیصلے اوپر سے مسلط کرنے کے بجائے عوامی مباحثے کے ذریعے طے کیے جانے چاہییں اور مکالمے کا یہ سلسلہ کراچی کے بعد سکھر، ہزارہ اور پشاور تک بھی بڑھایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp