ایران اور امریکا میں بحری جہازوں پر حملوں کی بڑی لہر، عالمی منڈی میں تیل 100 ڈالر سے تجاوز کرگیا

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں ایک ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد بحری محاذ پر اچانک بڑی کشیدگی پیدا ہوگئی، دونوں جانب سے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج نے 5 ایرانی تیل بردار جہاز تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تازہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔

رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل بردار ٹینکر شامل ہیں۔ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار 5 جہازوں کو تباہ کیے جانے کے بعد کیے گئے۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی جہازوں کو پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں تباہ کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے 10 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید حملوں کی صورت میں ایران اپنے ردعمل میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ سمندر میں ایک نئے اور وسیع علاقے کا نقشہ جاری کیا جائے گا جہاں جہاز رانی ممنوع ہوگی، یہ علاقہ پاکستان کے قریب چابہار تک پھیل سکتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق تازہ حملوں کے دوران دبئی کے قریب لنگر انداز آئل پروڈکٹس ٹینکر ’ہرکیولس اسٹار‘ پر ایک ملاح ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہوگیا۔ عراق کی بندرگاہی حکام نے بتایا کہ ’نیو اینڈروس‘ نامی ٹینکر بھی ڈرون حملے کی زد میں آنے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا، تاہم اس میں سوار 22 افراد محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی

برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے خلیج اور خلیج عمان میں متعدد تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خورفکان میں ایک مائع قدرتی گیس کے ٹینکر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔

ایران نے امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن کے مطابق ایران کی جانب سے 20 میزائل داغے گئے جن میں سے 18 کو روک لیا گیا، جبکہ باقی 2 میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں تمام امریکی فوجی محفوظ رہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیشگوئی کی ہے کہ جنگ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی، تاہم امریکی حکام کے مطابق جنگ کے طویل ہونے کے خدشات موجود ہیں۔

آبنائے ہرمز کے راستے جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس راستے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ توانائی کے مشاورتی ادارے رِسٹڈ انرجی کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل 2 ملین بیرل یومیہ تک گر گئی ہے، جو حالیہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے پہلے 8 سے 9 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp