ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ میں ایک ماہ کے نسبتاً سکون کے بعد بحری محاذ پر اچانک بڑی کشیدگی پیدا ہوگئی، دونوں جانب سے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد عالمی توانائی کی فراہمی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ امریکی فوج نے 5 ایرانی تیل بردار جہاز تباہ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ تازہ حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 10 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، جن میں 2 امریکی جہاز اور 8 تیل بردار ٹینکر شامل ہیں۔ یہ حملے امریکا کی جانب سے ایرانی تیل بردار 5 جہازوں کو تباہ کیے جانے کے بعد کیے گئے۔
🧵 THREAD
The US says it struck five Iranian tankers in the Gulf of Oman and near Kharg Island.
The attacks have raised concerns over the growing risks to shipping and the environment, as dozens of tankers remain stranded in and around the Strait of Hormuz. pic.twitter.com/R5y57zG00h
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 9, 2026
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایرانی جہازوں کو پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بحری جنگی جہاز کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں تباہ کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے 10 تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے مزید حملوں کی صورت میں ایران اپنے ردعمل میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ ایران نے یہ بھی کہا ہے کہ سمندر میں ایک نئے اور وسیع علاقے کا نقشہ جاری کیا جائے گا جہاں جہاز رانی ممنوع ہوگی، یہ علاقہ پاکستان کے قریب چابہار تک پھیل سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق تازہ حملوں کے دوران دبئی کے قریب لنگر انداز آئل پروڈکٹس ٹینکر ’ہرکیولس اسٹار‘ پر ایک ملاح ہلاک جبکہ ایک لاپتا ہوگیا۔ عراق کی بندرگاہی حکام نے بتایا کہ ’نیو اینڈروس‘ نامی ٹینکر بھی ڈرون حملے کی زد میں آنے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا، تاہم اس میں سوار 22 افراد محفوظ رہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا خارگ جزیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ، لارک پر حملے کے بعد ایران امریکا کشیدگی بڑھ گئی
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی نے خلیج اور خلیج عمان میں متعدد تجارتی بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات کی تصدیق کی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ خورفکان میں ایک مائع قدرتی گیس کے ٹینکر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔
ایران نے امریکی فوجی اڈے کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اردن کے مطابق ایران کی جانب سے 20 میزائل داغے گئے جن میں سے 18 کو روک لیا گیا، جبکہ باقی 2 میزائل غیر آباد علاقوں میں گرے۔ امریکی حکام کے مطابق حملے میں تمام امریکی فوجی محفوظ رہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیشگوئی کی ہے کہ جنگ نومبر کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوجائے گی، تاہم امریکی حکام کے مطابق جنگ کے طویل ہونے کے خدشات موجود ہیں۔
Iran and US strike tankers in biggest shipping attack since war began
➡️ https://t.co/M02AbJ7hqf pic.twitter.com/t5ew7TWIdO— FRANCE 24 (@FRANCE24) September 9, 2026
آبنائے ہرمز کے راستے جنگ سے قبل عالمی تیل کی تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل ہوتی تھی، تاہم لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے بعد اس راستے سے تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ توانائی کے مشاورتی ادارے رِسٹڈ انرجی کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل 2 ملین بیرل یومیہ تک گر گئی ہے، جو حالیہ لڑائی دوبارہ شروع ہونے سے پہلے 8 سے 9 ملین بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔














