چین کے انسان نما روبوٹ ’تیان گونگ الٹرا‘ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 8.64 سیکنڈ میں مکمل کرکے دنیا کے تیز ترین انسان یوسین بولٹ کا ریکارڈ تو پیچھے چھوڑ دیا، مگر اس روبوٹ کے انجینئرز کے لیے اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔ بیجنگ میں تیار کیے گئے روبوٹ کو ریکارڈ رفتار سے آگے بڑھا کر قابلِ اعتماد اور روزمرہ کاموں کے قابل بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ’تیان گونگ الٹرا‘ نے ورلڈ ہیومنائڈ روبوٹ گیمز میں 100 میٹر کا فاصلہ 8.64 سیکنڈ میں طے کیا، جو یوسین بولٹ کے انسانی عالمی ریکارڈ سے تقریباً ایک سیکنڈ کم ہے۔
Exclusive: TianGong Ultra stunned spectators at the World Humanoid Robot Games when it covered 100 meters in 8.64 seconds, almost a full second faster than Usain Bolt's world record. A week after his robot outran humanity's fastest man, Jack Guo is already chasing a harder goal.…
— Reuters (@Reuters) September 10, 2026
روبوٹ کی تیاری کے سربراہ 34 سالہ انجینئر جیک گو نے کہا کہ اب مقصد صرف رفتار نہیں بلکہ روبوٹ کو زیادہ قابلِ اعتماد اور کارآمد بنانا ہے۔ ان کے مطابق انسان نما روبوٹ آج کے دور میں تقریباً اسی مرحلے پر ہیں جہاں ابتدائی زمانے کی گاڑیاں تھیں، پہلے جسم اور حرکت کو قابو میں لانا ضروری ہے، اس کے بعد مصنوعی ذہانت کے ذریعے انہیں پیچیدہ کاموں کے قابل بنایا جائے گا۔
بیجنگ کے روبوٹک مرکز ’ایکس ہیومنوئڈ‘ میں انجینئرز روبوٹ کے سافٹ ویئر، حرکت کے نظام اور ہارڈویئر پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ کمپنی کے روبوٹ صنعتی شعبے میں آزمائشی طور پر ڈبے اٹھانے اور انہیں شیلف پر رکھنے جیسے کام بھی کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:نسان فیکٹری میں خود کار روبوٹس اپنے ہی بنائے ٹریفک نظام میں پھنس گئے، انسانوں کی ضرورت پھر پڑ گئی
جیک گو کے مطابق چھوٹے انسان نما روبوٹ ابتدائی طور پر تجارتی خدمات اور ہلکی صنعت میں کام کرسکتے ہیں، جبکہ ’الٹرا‘ جیسے روبوٹ مستقبل میں بیرونی معائنوں اور ہنگامی امدادی کارروائیوں میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
EXCLUSIVE: After outrunning Bolt, China's robot champion races towards real-world work https://t.co/XgyS4mabIs https://t.co/XgyS4mabIs
— Reuters (@Reuters) September 10, 2026
تاہم تیز رفتار روبوٹ کے لیے رکنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ 75 کلوگرام وزنی ’الٹرا‘ زیادہ سے زیادہ 17 میٹر فی سیکنڈ سے زائد رفتار پکڑ سکتا ہے، اس لیے مستقبل کے ماڈلز کو ہلکا اور زیادہ محفوظ بنانے پر بھی کام جاری ہے۔














