بھارت میں بی جے پی کے زیرِ حکمرانی ریاستوں میں مسلم املاک اور مذہبی مقامات کے خلاف مبینہ بلڈوزر کارروائیوں پر سول سوسائٹی نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ تجاوزات اور غیر قانونی تعمیرات کے نام پر مساجد اور دیگر مذہبی اداروں کی مسماری سے قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی اور بھارت کے کثیر الثقافتی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا جب 5 ستمبر کو اتر پردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں قائم مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ سرکاری اراضی سے متعلق تنازع کے بعد عدالت نے مسجد کو غیر قانونی قرار دیا تھا، تاہم مسجد انتظامیہ اور اپوزیشن حلقوں نے کارروائی کے طریقۂ کار اور مسماری کے وقت پر سوال اٹھائے۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے مسجد کی مسماری کو انصاف اور قانونی طریقۂ کار کے لیے چیلنج قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انتظامیہ زمین کے تنازع میں خود فریق بھی ہو اور کارروائی کرنے والی اتھارٹی بھی، تو اس عمل کی شفافیت پر سوال اٹھتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ عدالتی حکم میں فوری طور پر مسماری کی واضح کوئی ہدایت موجود نہیں تھی۔
یہ بھی پڑھیے سہارنپور میں مسجد کے انہدام پر سوال اٹھانے مسلم صحافی ہدیٰ زری والا گرفتار
ادھر مغربی اتر پردیش میں مزید مسلم عبادت گاہیں بھی انتظامی کارروائی کی زد میں آ گئی ہیں۔ مرادآباد کی مصطفیٰ مسجد کو مرادآباد ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے تعمیراتی دستاویزات پیش کرنے کا نوٹس جاری کر دیا ہے، جبکہ پڑوسی ضلع سنبھل کی بابا بہاؤالدین شاہ مسجد کو بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ کی جانب سے تحقیقات کا سامنا ہے۔
بھارتی سول سوسائٹی کے ناقدین ماضی میں بھی الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ بلڈوزر کارروائیوں کو مسلمانوں کے خلاف بطور سزا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2022 میں فرقہ وارانہ تشدد اور احتجاج کے دوران آسام، دہلی، گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں 128 املاک منہدم کی گئیں، جن سے کم از کم 617 افراد متاثر ہوئے۔ تنظیم کے مطابق مسلمان خاندان اور کاروبار بھی غیر ضروری طور پر متاثر ہوئے۔
فلم سازوں، مصنفین، سماجی کارکنوں اور دیگر حلقوں کی جانب سے بھی مسماری کی کارروائیوں پر تنقید کی گئی ہے۔
ناقدین کے مطابق پیچیدہ قانونی اور سماجی تنازعات کو مناسب قانونی کارروائی کے بجائے فوری مسماری کے ذریعے حل کرنا خوف اور عدم تحفظ کو جنم دیتا ہے۔
نومبر 2024 میں بھارتی سپریم کورٹ نے زور دیا تھا کہ مبینہ غیر قانونی تجاوزات یا غیر مجاز تعمیرات کے خلاف کارروائی میں ریاست کو قانونی طریقۂ کار کی پابندی کرنا ہوگی اور قانون کی حکمرانی میں ’بلڈوزر جسٹس‘ قابلِ قبول نہیں۔
یہ بھی پڑھیے بی جے پی حکومت مسلم شناخت، مساجد اور تاریخی ورثےمٹانے کے درپے
سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ مساجد، مدارس، مزارات اور دیگر مسلم اداروں کے خلاف کارروائیاں محض تعمیرات یا اراضی کے تنازعات تک محدود نہیں بلکہ مذہبی آزادی، قانون کے مساوی اطلاق اور بھارت کے متنوع ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق اہم سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
ناقدین نے بھارتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ تجاوزات اور املاک کے تنازعات کو شفاف قانونی طریقۂ کار کے ذریعے حل کیا جائے اور مسلم مذہبی مقامات کے خلاف مبینہ طور پر انتخابی یا انتقامی مسماری کی کارروائیاں بند کی جائیں۔ اتر پردیش سے لے کر بھارت کے دیگر حصوں تک مسلم مذہبی مقامات پر بڑھتی ہوئی نگرانی نے اقلیتی برادریوں میں یہ خوف پیدا کر دیا ہے کہ تاریخی مقامات اور عبادت گاہیں مختلف وجوہات کی بنیاد پر انتظامی کارروائیوں کی زد میں آ سکتی ہیں۔ سول سوسائٹی نے بھارتی حکام پر زور دیا ہے کہ آئینی تحفظات اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔














