نوجوان میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے قائم سنگل بینچ جوڈیشل کمیشن کا اہم اجلاس سندھ ہائیکورٹ میں ہوا، جس میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کو خصوصی طور پر طلب کیا گیا تھا۔ وہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔
سماعت کے آغاز پر کمیشن نے صوبائی وزیر داخلہ کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا،’لنجار صاحب! ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں اور آپ کا بہت احترام کرتے ہیں۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ کمیشن کی کارروائی مکمل شفافیت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھیں گے، اسی سلسلے میں کچھ باتیں آپ کے علم میں لانا ضروری تھیں۔‘
ایڈووکیٹ جنرل کے رویے پر کمیشن کے تحفظات
کمیشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریال تالپور، وزیر اعلیٰ سندھ اور خود وزیر داخلہ متعدد بار غفلت کی نشاندہی اور کیس کے حقائق سامنے لانے کا اعادہ کر چکے ہیں۔
کمیشن نے کہا کہ مقتول کے والدین کے خدشات دور کرنا اور ان کا اعتماد بحال کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی بنیاد پر مقتول کے خاندان کو وکیل کے ذریعے سوالات کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے میر رضا کیس: ’پولیس کی بدنیتی کے باوجود سوسائیڈ کے نریٹیو کو امپاسیبل بنادیا، اب یہ مرڈر ہے‘
تاہم، کمیشن کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل سندھ کی جانب سے کی جانے والی مداخلت انتہائی تضحیک آمیز تھی اور اس سے صورتحال مزید خراب ہوئی۔ کمیشن نے کہا کہ ہم صرف یہ وضاحت چاہتے ہیں کہ کیا سندھ حکومت کا وژن وہی ہے جو اس کی قیادت نے بیان کیا تھا؟
وزیر داخلہ کی جوڈیشل کمیشن کے روبرو معذرت
وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے کمیشن کے سامنے پیدا ہونے والی صورتحال پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کے قیام کا بنیادی مقصد ہی عوام کا اعتماد بحال کرنا تھا۔ اگر عوام کا اعتماد قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اٹھ جائے تو پھر عدلیہ ہی واحد سہارا رہ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا، ’بطور والد اور وزیر داخلہ مجھے بچے کے ضیاع کا شدید دکھ ہے۔ ہم سب انصاف چاہتے ہیں اور حکومت اس کیس میں اصل ظالم کو سامنے لانا چاہتی ہے۔‘
وزیر داخلہ نے کہا کہ کمیشن کے ٹی او آرز بالکل واضح ہیں اور کمیشن مجھ سمیت کسی کو بھی طلب کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ہم کمیشن کی کارروائی میں کسی قسم کی مداخلت نہیں چاہتے۔ کمیشن جس طرح مناسب سمجھے، کارروائی کو آگے بڑھائے۔
ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی
وزیر داخلہ نے کہا کہ محکمہ داخلہ کے نمائندے معاونت کے لیے موجود ہیں اور مقتول کے خاندان یا کمیشن کو جن بھی شواہد، دستاویزات یا دیگر معاونت کی ضرورت ہوگی، سندھ حکومت فوری طور پر فراہم کرے گی۔
وزیر داخلہ کی وضاحت اور موقف سننے کے بعد کمیشن نے ان کا شکریہ ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیے سچائی کی قیمت اور بے حسی کا تازیانہ: میر رضا کیس میں گواہی دینے والا غریب ڈرائیور کیوں بے گھر ہو گیا
کمیشن نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ جواد ڈیرو کی قابلیت کا اعتراف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنے عہد پر قائم رہیں گے اور ایسی فضا قائم نہیں ہونے دی جائے گی جس سے یہ تاثر پیدا ہو کہ سندھ حکومت تحقیقات میں مخلص نہیں ہے۔













