کوئٹہ کے قریب تکتو پہاڑی سلسلے میں نایاب سلیمان مارخور کے غیر قانونی شکار کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد محکمہ جنگلات و جنگلی حیات نے کارروائی کرتے ہوئے 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
کوئٹہ کے قریب واقع تکتو پہاڑی سلسلہ سلیمان مارخور سمیت نایاب جنگلی حیات کا اہم ترین مسکن ہے، جسے حکومتی سطح پر محفوظ علاقہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مخصوص زون میں شکار اور دیگر تمام غیر قانونی انسانی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چترال،68 ہزار امریکی ڈالر میں لائسنس حاصل کرنیوالا روسی باشندہ کشمیری مارخور کا شکار کرنے میں کامیاب
چند روز قبل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں 3 سے 4 افراد کو نایاب مارخور کے شکار کے بعد اسے بے دردی سے ذبح کرتے ہوئے صاف دیکھا جا سکتا ہے۔
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق اسی وائرل ویڈیو کی مدد سے 3 ملزمان کی شناخت کر لی گئی ہے جن کا تعلق کوئٹہ کے قریب کچلاک کے علاقے سے بتایا جاتا ہے، جبکہ واقعے میں ملوث چوتھے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی ہے۔
بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی
حکام کا کہنا ہے کہ بے دردی سے شکار کیا گیا یہ جانور تقریباً 3 سال کی عمر کا نایاب سلیمان مارخور تھا۔
نامزد ملزمان کے خلاف بلوچستان وائلڈ لائف ایکٹ 2014 کی دفعات 10، 16 بی، سی، 35 اور 90 کے تحت باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:چترال ٹرافی ہنٹنگ، امریکی شکاری نے ایک لاکھ ڈالرز کے عوض مارخور کا شکار کرلیا
محکمہ جنگلی حیات نے اس گھناؤنے جرم پر سخت ایکشن لیتے ہوئے مقامی عدالت میں 44 لاکھ روپے کی وصولی کے لیے چالان بھی جمع کرا دیا ہے تاکہ خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔
فرانزک تجزیہ اور گرفتاری کے لیے کوششیں
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق وائرل ہونے والی اس ویڈیو کو مزید قانونی شواہد کے لیے فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔
اس وقت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، جن کی حراست کے بعد شکار کے اصل وقت اور واقعے سے متعلق مزید اہم پس منظر اور تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔














