چترال،68 ہزار امریکی ڈالر میں لائسنس حاصل کرنیوالا روسی باشندہ کشمیری مارخور کا شکار کرنے میں کامیاب

بدھ 31 دسمبر 2025
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چترال کے علاقے گہریت گول میں ایک روسی شہری نے قانونی اجازت کے تحت کشمیری مارخور کا شکار کر لیا۔ شکار کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کے تحت کیا گیا، جس سے حاصل ہونے والی آمدن مقامی آبادی کی فلاح و بہبود پر خرچ کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے مہنگے ترین پرمٹ، بولی کیسے ہوتی ہے؟

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق روسی شکاری نے مارخور کے شکار کا لائسنس 68 ہزار امریکی ڈالر میں حاصل کیا تھا۔ شکار کیے گئے مارخور کے سینگوں کی لمبائی 41 انچ بتائی گئی ہے۔

محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ یہ شکار باقاعدہ ضابطوں کے تحت کرایا گیا اور اس پروگرام سے حاصل ہونے والی آمدن کا بڑا حصہ مقامی کمیونٹی کی معاشی بہتری، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی سرگرمیوں کے لیے مختص کیا جائے گا۔

محکمہ جنگلی حیات کے مطابق کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام کا بنیادی مقصد نایاب جنگلی حیات کا تحفظ یقینی بنانا اور مقامی آبادی کو براہ راست معاشی فوائد فراہم کرنا ہے تاکہ وہ قدرتی وسائل کے تحفظ میں فعال کردار ادا کر سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی، پیٹرول 50، ڈیزل 19پیسے سستا

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ: جماعت اسلامی کا 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون میں بڑی پیشرفت، نیا معاہدہ طے پاگیا

پمز سانحہ، جاں بحق بچوں کے لواحقین کے لیے 50 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان

کینیڈا کے ساتھ تجارتی تنازع: ڈونلڈ ٹرمپ کا ‘لیک اونٹاریو’ کا نام بدل کر ‘لیک امریکا’ رکھنے کا انتظامی حکمنامہ جاری

ویڈیو

پمز سانحہ، سیکریٹری ہیلتھ ماضی کے ملزم، بے ایل اے کی دہشتگرد خواتین پر انعام

امریکی سی آئی اے چیف کے خفیہ دورۂ ماسکو پر دُنیا میں ہلچل، روس کو تباہ کن نتائج کی دھمکی

نیپال: زلزلہ یا تباہی کا نیا روپ؟ 5.2 شدت کے جھٹکے کی خوفناک سچائی سامنے آگئی

کالم / تجزیہ

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ