اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو متوقع احتجاج اور لانگ مارچ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس، جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے سخت سوالات کیے اور عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی کے معاملے پر وضاحت طلب کرلی۔
یہ بھی پڑھیں: چیف جسٹس سے نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ اور نسٹ لا اسکول کے ڈین کی ملاقات، اہم امور پر تبادلہ خیال
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں 3 رکنی لارجر بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ بینچ میں جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس محمد آصف بھی شامل ہیں۔ معاملے کی حساسیت کے پیش نظر عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کو روسٹرم پر طلب کیا۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ایڈووکیٹ جنرل سے کہا کہ انہیں کچھ سوالات کے جوابات درکار ہیں۔ انہوں نے ریمارکس دیے کہ گزشتہ 3،4 سال سے عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔
چیف جسٹس نے واضح کیا کہ وہ صرف موجودہ صورتحال کی بات نہیں کر رہے بلکہ گزشتہ 2،3 برس کے واقعات بھی ان کے پیش نظر ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ انہیں درخواست کا نوٹس گزشتہ روز ہی موصول ہوا ہے اور انہیں درخواست کا جائزہ لے کر تیاری کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
مزید پڑھیے: سہیل آفریدی کی چیف جسٹس سرفراز ڈوگر سے ملاقات کی کوشش، عدالتی آداب ملحوظ رکھنے کی یاددہانی
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا انہیں مزید وقت چاہیے؟ ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا کہ جی ہاں، انہیں وقت درکار ہے کیونکہ درخواست کے بعض پہلوؤں پر تفصیلی دلائل دینا ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ درخواست میں سب سے پہلے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے حوالے سے معاملہ اٹھایا گیا ہے اس کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے کے سوال پر بھی دلائل دینے ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا جیسا درخواست میں بیان کیا جا رہا ہے۔
عدالت شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے دورانِ سماعت عدالت کے آئینی کردار پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ وفاقی دارالحکومت میں رہنے والے شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔
عدالت نے معاملے کو اہم اور آئینی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا ہے۔
یہ سماعت ایک شہری کی جانب سے دائر درخواست کے تناظر میں ہوئی ہے جس میں پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج اور لانگ مارچ سے اسلام آباد کے شہریوں، کاروباری سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کو ممکنہ طور پر متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ عدالت اس سے قبل چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹر جنرلز سمیت اسلام آباد کے چیف کمشنر، آئی جی اور ڈپٹی کمشنر کو بھی ذاتی حیثیت میں طلب کرچکی ہے۔
مزید پڑھیں: جسٹس کمیٹی کا اجلاس، عدالتی امور و سیکیورٹی صورتحال سمیت اہم امور کا جائزہ
درخواست پر مزید سماعت جاری ہے جبکہ عدالت آئندہ کارروائی میں فریقین کے مؤقف اور متعلقہ حکام کے جوابات کا جائزہ لے گی۔














