27 ستمبر مارچ: سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کیخلاف کیسز میں تیزی، کن مقدمات میں گرفتاری کا خدشہ؟

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی 27 ستمبر کے اسلام آباد مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، وہیں ان کے اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کی سماعت میں بھی تیزی آئی ہے اور کئی رہنماؤں کے وارنٹِ گرفتاری بھی جاری ہو چکے ہیں۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد، ایم پی اے غنی خان آفریدی اور دیگر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔

انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں وزیرِ اعلیٰ اور دیگر رہنماؤں کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج کے دوران توڑ پھوڑ کے حوالے سے تھانہ مارگلہ میں درج مقدمہ زیرِ سماعت ہے۔

عدالت نے وزیرِاعلیٰ اور دیگر نامزد ملزمان کو اشتہاری قرار دینے کے حوالے سے بھی کارروائی شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سوشل میڈیا پروپیگنڈا: پی ٹی آئی لیڈرز جے آئی ٹی کے روبرو پیش، 11 مارچ کو دوبارہ طلب

اسلام آباد کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں 26 نومبر کے ایک دوسرے مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے اور اب تک 42 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

اسی مقدمے میں وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی وزیر مینا خان آفریدی، صوبائی وزیر ڈاکٹر امجد اور پارٹی کے دیگر رہنما نامزد ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف کتنے کیسز درج ہیں؟

پی ٹی آئی کے یوتھ رہنما سہیل آفریدی کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد ان کے خلاف درج مقدمات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے۔

وزیرِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد فرانزک اور نادرا رپورٹ کی بنیاد پر انہیں اور دیگر پارٹی رہنماؤں کو ان کے ماتحت پشاور پولیس نے 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں نامزد کیا، جو اس وقت پشاور کی انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔

جبکہ ریڈیو پاکستان کے وکیل نے کیس کو پشاور سے اسلام آباد منتقل کرنے کی درخواست بھی دے رکھی ہے۔

پشاور کے علاوہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد میں 26 نومبر کے احتجاج کے حوالے سے 2 مقدمات درج ہیں، جو اس وقت انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں زیرِ سماعت ہیں۔

ایک مقدمے میں ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری ہو چکے ہیں، جبکہ دوسرے مقدمے میں گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

انسدادِ دہشتگردی عدالتوں کے مقدمات کے علاوہ سہیل آفریدی کے خلاف اسلام آباد کے سائبر کرائم ونگ میں بھی دو ایف آئی آرز درج ہیں۔

سہیل آفریدی کے علاوہ ان کے اہم ساتھی بھی انہی مقدمات میں نامزد ہیں، جن میں جنید اکبر، مینا خان آفریدی، ڈاکٹر امجد اور دیگر شامل ہیں۔

پی ٹی آئی رہنما کیسز سے پریشان کیوں؟

پی ٹی آئی اس وقت اسلام آباد لانگ مارچ کی تیاریوں میں مصروف ہے اور پارٹی رہنما ان مقدمات کی وجہ سے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔

پی ٹی آئی کے ایک رہنما نے بتایا کہ پہلے دن سے ہی پی ٹی آئی رہنماؤں کو دباؤ میں لانے کے لیے اس طرح کے مقدمات کا سہارا لیا جاتا رہا ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ مارچ کا دن قریب آتے ہی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے اور اسلام آباد یا کسی دوسرے صوبے کا سفراہم رہنماؤں کی گرفتاری کا باعث بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:24 نومبر کو اسلام آباد مارچ کا اعلان، پی ٹی آئی قیادت عمران خان سے ناخوش کیوں؟

انہوں نے مزید بتایا کہ وزیرِاعلیٰ نے اپنے قریبی ساتھیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اسلام آباد جانے سے گریز کریں اور صوبے میں ہی رہنے کو ترجیح دیں۔

دوسری جانب اسپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی نے اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ یہ اجلاس جمعے کو ہو رہا ہے، جسے اس سے قبل 21 ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔

پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات اکرام کٹھانہ کا مؤقف ہے کہ جب بھی لانگ مارچ یا احتجاج کی بات ہوتی ہے تو دباؤ ڈالنے کے لیے مختلف حربے آزمائے جاتے ہیں۔

’کیسز بنانے اور سماعت تیز کرنے کا سلسلہ علی امین کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ اس وقت بھی نہیں ڈرے، اب بھی نہیں ڈریں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں بھی پرامن احتجاج کیا تھا اور آئندہ لانگ مارچ بھی پرامن ہوگا۔ ’ہم آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنا پرامن احتجاج کریں گے، جو ہمارا آئینی حق ہے۔‘

کیا یہ کیسز وزیرِ اعلیٰ کے لیے پریشان کن ہیں؟

پی ٹی آئی کے مطابق 9 مئی اور 26 نومبر کے کیسز سیاسی نوعیت کے مقدمات ہیں اور ان واقعات میں پارٹی رہنما ملوث نہیں تھے۔

تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے اور بعض کیسز میں مضبوط شواہد موجود ہیں۔

شبیر حسین گیگیانی پشاور کے سینیئر قانون دان ہیں اور ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں ادارے کے وکیل بھی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ سہیل آفریدی، تیمور جھگڑا، مینا خان اور دیگر کو اس وقت ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا جب سہیل آفریدی خود وزیرِ اعلیٰ کی کرسی پر براجمان تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ریڈیو پاکستان کیس میں مضبوط ڈیجیٹل شواہد موجود ہیں۔  ’سپریم کورٹ نے حال ہی میں کچھ کیسز میں ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر فیصلے دیے ہیں اور سی سی ٹی وی فوٹیج یا ڈیجیٹل شواہد کو خاموش چشم دید گواہ بھی کہا جاتا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیں:عمران خان کی رہائی کے لیے لانگ مارچ یا دھرنا بھی دے سکتے ہیں، پی ٹی آئی کا اعلان

انہوں نے واضح کیا کہ عدالت ہمیشہ شواہد کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے اور اس کیس میں شواہد موجود ہیں۔

26 نومبر کے کیسز کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ یہ مقدمات بھی کافی عرصے سے زیرِ سماعت ہیں۔ انسدادِ دہشتگردی کی عدالت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ ملزم کی عدم گرفتاری یا عدم پیشی کی صورت میں کارروائی آگے بڑھا سکتی ہے۔

’اس سے پہلے ایسے کیسز میں سزائیں ہوئی ہیں، تاہم حتمی انحصار شواہد پر ہوگا۔‘ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ ہوں یا کوئی اور، جرم ثابت ہونے پر عدالت سزا سنا سکتی ہے۔

’کسی بھی کیس کو آپ ہلکا نہیں لے سکتے اور انسدادِ دہشتگردی عدالت کے کیسز انتہائی سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں۔‘

پشاور کے سینیئر قانون دان علی گوہر درانی، شبیر حسین گیگیانی کی رائے سے اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ریڈیو پاکستان کیس میں ابھی تک وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو ملزم قرار نہیں دیا گیا ہے۔

’ابھی تک سہیل آفریدی اور دیگر اس کیس میں ملزم نہیں ہیں۔ جب چالان جمع ہو گا تب کیس آگے بڑھے گا، ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوا ہے۔‘

انسدادِ دہشتگردی کی عدالت اسلام آباد کی جانب سے ناقابلِ ضمانت وارنٹ کے اجرا پر علی گوہر درانی کا مؤقف ہے کہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونا اور گواہوں کے بیانات قلم بند کرنا معمول کی عدالتی کارروائی ہے۔

’کوئی بھی ملزم جب عدالت کے سامنے پیش نہیں ہوتا تو ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہوتا ہے اور پیش ہونے کی صورت میں یہ ختم ہو جاتا ہے۔‘

علی گوہر درانی نے بتایا کہ محض وارنٹ جاری ہونے سے کیس کو پریشان کن قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ عدالت شواہد اور دلائل کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کیسز پر ابھی سے پریشان ہونا درست نہیں۔ تاہم دونوں قانون دانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اگر شواہد مضبوط ہوں تو سزا ہو سکتی ہے۔ علی گوہر کے مطابق کسی بھی عدالتی کیس کو آسان نہیں لینا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp