افغانستان سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان ڈاکٹر اپنی تعلیم مکمل کرنے کے کچھ ہی عرصے بعد فتنہ الخوارج کے ساتھ شامل ہوکر پاکستان میں فورسز کے خلاف لڑائی کے دوران ہلاک ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے،فتنہ الخوارج کو دشمن ملک سے وسائل مل رہے ہیں، وزیراعظم شہبازشریف
اطلاعات کے مطابق عبیداللہ سعید نے رواں سال جنوری میں کابل سے ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی تھی اور اس کے والد بھی پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں۔
عبیداللہ سعید کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر کے گاؤں شاہی قلعہ سے بتایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ فتنہ الخوارج کے دیگر جنگجوؤں کے ہمراہ پاکستان میں داخل ہوا تھا۔
عبیداللہ سعید 3 روز قبل ضلع کرم میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ کے دوران اپنے 3 ساتھیوں سمیت مارا گیا۔
تعلیم یافتہ افغان نوجوانوں کی مسلح گروہوں میں شمولیت کا معاملہ
عبیداللہ سعید کا واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان سے سرگرم مسلح گروہوں کی پاکستان میں کارروائیوں اور ان میں افغان شہریوں کی شمولیت کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔
عبیداللہ کے بارے میں سامنے آنے والی معلومات میں خاص طور پر یہ پہلو نمایاں ہوتا ہے کہ اس نے حال ہی میں طب کی تعلیم مکمل کی تھی جس کے بعد وہ مسلح گروہ کا حصہ بن گیا۔
مزید پڑھیے: افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار
طالبان حکومت کے دور میں افغانستان میں مسلح گروہوں کی مبینہ سرگرمیوں اور پڑھے لکھے نوجوانوں کی ان میں شمولیت باعث تشویش قرار دی جا رہی ہے۔














