افغان طالبان کا فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائی کا دعویٰ جھوٹا، دونوں کا گٹھ جوڑ برقرار

جمعرات 20 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغان طالبان فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کو اب بھی پناہ، عملی سہولت اور کارروائیوں کے لیے جگہ فراہم کررہے ہیں، جبکہ افغان طالبان کی جانب سے تنظیم کے خلاف دباؤ، گرفتاریوں اور نگرانی کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری ہے اور پاکستان کے خلاف تنظیم کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

افغان طالبان کے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے دعوے

افغان طالبان نے دعویٰ کی اہے کہ ٹی ٹی پی کے بعض ارکان کے خلاف اقدامات کیے گئے ہیں، کچھ افراد کو نگرانی میں رکھا گیا جبکہ بعض کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان کے منحرف کمانڈر کا بڑا اعتراف، افغانستان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر غیرملکی شدت پسند گروہوں کی موجودگی کی تصدیق

افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ٹی ٹی پی کے متعدد رہنما اور ارکان افغانستان سے پاکستان منتقل ہوئے، جبکہ کچھ ارکان کو افغان طالبان کی جانب سے نگرانی میں رکھنے یا گرفتار کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔

کابل میں موجود ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ ٹی ٹی پی قیادت افغان طالبان کے ان اقدامات پر ناراض ہے اور دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ بڑھ رہا ہے۔ تاہم ان دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

دوسری جانب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 38ویں مانیٹرنگ رپورٹ طالبان اور ٹی ٹی پی کے تعلقات کے بارے میں مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان کے طالبان حکام نے ٹی ٹی پی کی حمایت جاری رکھی، جبکہ تنظیم کی جانب سے پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سرحدی کشیدگی اور فوجی جھڑپوں میں بھی اضافہ ہوا۔

 

رپورٹ کے مطابق افغان حکام نے پاکستانی سرحد سے متصل علاقوں سے تقریباً 2 ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ اقدام ٹی ٹی پی کو محدود کرنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا، تاہم اسے تنظیم کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے کے مترادف قرار نہیں دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی ایم کے ٹی ٹی پی اور افغان طالبان سے رابطے ہیں، پاکستان مخالف بیانیے پر کالعدم قرار دیا، وزیر اطلاعات

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طالبان رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ نے مبینہ طور پر پس پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان کے خلاف حملے روکنے کی تنبیہ کی۔ اس کے باوجود ٹی ٹی پی کی جانب سے پاکستان کے خلاف حملے جاری رہے۔

دباؤ یا حکمت عملی میں تبدیلی؟

رپورٹ میں طالبان حکومت کے بعض اقدامات کا ذکر ضرور ہے، لیکن مجموعی جائزہ یہ بتاتا ہے کہ ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم نہیں ہوئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان حکام کی جانب سے ٹی ٹی پی کی حمایت اور اس کے پاکستان مخالف حملوں کے درمیان تعلق برقرار رہا۔

رپورٹ نے ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان بڑھتے ہوئے عملی اور سہولت کاری روابط کی جانب بھی توجہ دلائی ہے، جس سے خطے کو درپیش سکیورٹی خطرات کی پیچیدگی مزید واضح ہوتی ہے۔

اصل صورت حال کیا ہے؟

ٹی ٹی پی کے بعض ارکان کی گرفتاری، نگرانی یا ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقلی کو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مکمل علیحدگی کا ثبوت قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے کچھ اقدامات کے باوجود ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں اور پاکستان کے خلاف حملے جاری رہے۔ اسی بنا پر طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مکمل اور فیصلہ کن اختلافات کے دعووں کو زمینی صورت حال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

یوں کہا جاسکتا ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی کی پس پردہ حمایت جاری رکھے ہوئے ہے اور ٹی ٹی پی سے دوری کے دعوے محض فریب ہیں۔

بعض افراد کے ذریعے یہ بیانیہ جان بوجھ کر آگے بڑھایا جا رہا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیاں دوریاں ہیں۔ تاکہ ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کا تاثر پیدا کیا جاسکے، تاہم تنظیم کی قیادت، بنیادی ڈھانچے اور کارروائیوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹی ٹی پی دہشتگرد افغان طالبان کے فعال تعاون سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں، اقوام متحدہ

ٹی ٹی پی پر حقیقی دباؤ کا مطلب اس کے کمانڈ ڈھانچے، تربیتی مراکز، رسد کے نظام اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنا اور پاکستان کے خلاف حملے روکنا ہوگا۔

 افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان اختلافات یا علیحدگی کی خبروں بھی ’من گھڑت پروپیگنڈا‘ ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کو وہ حمایت اور عملی گنجائش فراہم کر رہی ہے جس کے ذریعے تنظیم اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتی ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے خاتمے کا اندازہ صرف گرفتاریوں یا نگرانی کے دعووں سے نہیں بلکہ تنظیم کی قیادت، نیٹ ورک، مالی وسائل اور پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے حقیقی خاتمے سے لگایا جاسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

مالی مسائل حل نہ ہوئے تو بی پی ایل منعقد نہیں کریں گے، تمیم اقبال

واٹس ایپ اب کاروباری اداروں سے صارفین کے جوابات پر بھی فیس وصول کرے گا

پاکستانی کوہ پیما عاصمہ مشتاق اسپینٹک سر کرنے کے بعد انتقال کرگئیں

بی این پی رہنما مرزا فخرالاسلام عالمگیر بنگلہ دیش کے نئے صدر منتخب

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 27 پیسے اور ڈیزل ایک روپے 64 پیسے مہنگا

ویڈیو

ڈیل یا ڈھیل، حکومت نے درخواست واپس لے لی، کپتان اسپتال منتقل، اگلی منزل بنی گالہ، بلاول کی پھرتیاں

شاہی خاندان سے تعلقات بہتر ہوگئے، شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کا 6 سالہ جلا وطنی کے بعد وطن واپسی کا فیصلہ

پنجاب میں بلدیاتی انتخابات 15 دسمبر سے 15 جنوری کے درمیان ہوں گے، صوبائی حکومت اور الیکشن کمیشن متفق

کالم / تجزیہ

فیصلے کی تاریخ اور تاریخ کا فیصلہ

سپمورن سنگھ کالرا سے گلزار تک

وزیر اعلیٰ اسلام آباد کا اقتدار کب ختم ہوگا؟