الجزائر نے طویل عرصے سے چلی آرہی سفارتی کشیدگی اور شدید اختلافات کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ الجزائر نے ابوظہبی پر ’دشمنی پر مبنی اقدامات‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے اماراتی سفیر کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب امارات نے فیصلہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تعلقات کو عقلمندی اور شفافیت کی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے جاری سفارتی تناؤ کے بعد الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بالکل منقطع کر لیے ہیں۔
الجزائر کے سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق، ’الجزائر نے باہمی تعلقات کو برقرار رکھنے کی تمام ممکنہ کوششیں ناکام ہونے کے بعد متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
الجزائر کی وزارتِ خارجہ نے امارات پر ’ معاندانہ کاموں‘ کا الزام لگایا، تاہم ان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ وزارت نے کہا، ’الجزائر نے اماراتی فریق کو اس کے غیر تسلی بخش اور ناقابلِ جواز رویے کے نتائج سے خبردار کرنے کے لیے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔‘
امارتی سفیر ملک بدر، فضائی حدود بند
اس فیصلے کے بعد الجزائر میں مقیم اماراتی سفیر یوسف سیف خمیس سباع آل علی کو طلب کر کے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور انہیں ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ الجزائر نے جمعہ کے روز سے اماراتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، تاہم الجزائر سے آنے اور جانے والی اماراتی تجارتی پروازوں کو سال کے آخر تک اس سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کی جانب سے ’صومالی لینڈ‘ کا تسلیم کیا جانا خطے کے لیے خطرناک ہے، اسلامی ممالک کی مذمت
یاد رہے کہ الجزائر نے امارات کے ساتھ 2013 کے فضائی خدمات کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل رواں برس فروری میں ہی شروع کر دیا تھا جو تعلقات میں بگاڑ کا واضح اشارہ تھا۔
متحدہ عرب امارات کا ردِعمل
الجزائر کے اعلان کے فوراً بعد اماراتی صدر کے مشیر انوار قرقاش نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک پیغام میں لکھا کہ سفارتی تعلقات کا انحصار ’پہیلیاں بجھانے‘ کے بجائے ’عقلمندی، مواصلات اور مفادات کی شفافیت‘ پر ہونا چاہیے۔
اگرچہ قرقاش نے براہ راست الجزائر کا نام نہیں لیا، لیکن ان کا اشارہ واضح تھا۔ انہوں نے مزید کہا، ’ابہام کوئی پالیسی نہیں ہوتی اور شور و غوغا بصیرت کی کمی کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ کامیاب سفارت کاری واضح موقف اور مفادات کے درست انتظام پر مبنی ہوتی ہے۔‘
بعد ازاں اماراتی وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ یہ فیصلہ ’عارضی‘ ثابت ہوگا اور کہا کہ اماراتی حکومت برادر الجزائری عوام کے ساتھ جذبہ احترام رکھتی ہے اور امارات میں مقیم الجزائری شہریوں کے ساتھ مضبوط روابط پر فخر کرتی ہے۔
الجزائری صدر کا ماضی میں امارات پر تنقید
اگرچہ الجزائری صدر عبدالمجید تبون نے شاذ و نادر ہی امارات کا نام لیا ہو، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے بیانات کا اشارہ ہمیشہ اسی خلیجی ریاست کی طرف ہی رہا ہے۔
صدر تبون اکثر اپنے خطاب میں ایک ’چھوٹی ریاست‘ (Micro-state) کا ذکر کرتے رہے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ لیبیا، مالی اور سوڈان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
جولائی میں ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ اس نامعلوم ریاست کا خطے پر ’انتہائی منفی اثر‘ پڑ رہا ہے اور ’یہ جہاں بھی قدم رکھتی ہے، وہاں خون بہتا ہے۔‘
انہوں نے کہا تھا، ’ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے ملک سے دور رہیں تاکہ یہاں خون نہ بہے۔‘
اُس وقت ان کا کہنا تھا کہ الجزائر بہت پہلے بھی تعلقات توڑ سکتا تھا لیکن علاقائی تقسیم کو بڑھانے سے گریز کرنے کے لیے صبر سے کام لیا گیا۔
تنازع کے بنیادی اسباب اور علاقائی اختلافات
الجزائر اور امارات کے درمیان شدید اختلافات کی بنیادی وجوہات میں متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور مغربی صحارا کا تنازع شامل ہیں۔
الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے (نارملائزیشن) کا سخت مخالف ہے، جبکہ امارات نے 2020 میں ابراہیمی معاہدے کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات قائم کر لیے تھے۔
یہ بھی پڑھیے اسرائیل کے مغربی کنارے پر خودساختہ خودمختاری کے اعلان کی عرب واسلامی ممالک کی شدید مذمت
اسی طرح امارات متنازع خطے ‘مغربی صحارا’ پر مراکش کے دعوے کی حمایت کرتا ہے، جبکہ الجزائر آزادی کی جدوجہد کرنے والی تنظیم ‘پولیساریو فرنٹ’ (Polisario Front) کا پشت پناہ ہے۔
خطے کی دیگر ریاستوں کے ساتھ امارات کی کشیدگی
الجزائر کے ساتھ تعلقات کی خرابی واحد معاملہ نہیں ہے۔ حال ہی میں امارات کو دیگر خلیجی اور افریقی ممالک کے ساتھ بھی سفارتی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
جنوری میں صومالیہ نے امارات کے ساتھ بندرگاہوں اور دفاعی معاہدوں سمیت تمام معاہدے منسوخ کر دیے تھے اور ابوظہبی پر اپنی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔
سوڈانی حکومت امارات پر خانہ جنگی کے دوران عسکری قوت ‘ریپڈ سپورٹ فورسز’ (RSF) کی مدد کا الزام عائد کرتی رہی ہے۔














