کم جونگ اُن نے شمالی کوریا میں تفریح اور آسائشوں کے دروازے کھول دیے

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شمالی کوریا، جو طویل عرصے سے غربت، پابندیوں اور بنیادی ضروریات کی کمی کے لیے جانا جاتا ہے، اب کافی بارز، واٹر پارکس، لگژری مالز اور تفریحی مراکز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث ایک مختلف تصویر پیش کر رہا ہے۔

رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ شہریوں کو زیادہ خرچ کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور حکومت تفریح، خریداری اور دیگر سہولیات کو سرکاری نظام کے تحت فروغ دے رہی ہے۔ اس کا مقصد نہ صرف شہریوں کو سہولتیں فراہم کرنا بلکہ غیر رسمی کاروباری منڈی کو محدود کرکے معیشت میں سرکاری کنٹرول بڑھانا بھی ہے۔

چینی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران شمالی کوریا میں مساج کے آلات کی درآمد 40 گنا تک بڑھ گئی، جبکہ ٹریڈ ملز کی درآمد میں 600 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔ پیانو، گھومنے والے جھولوں اور دیگر تفریحی سامان کی درآمد بھی بڑھی ہے۔

پیانگ یانگ میں نئے لگژری مالز، ریسٹورنٹس اور تفریحی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ گزشتہ سال کھولے گئے ایک لگژری مال میں کافی شاپس اور گھریلو سامان کی دکانیں موجود ہیں، جبکہ پالتو جانوروں کے ایک نئے اسٹور کا دورہ کم جونگ اُن نے اپنی بیٹی کے ہمراہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:کیا شمالی کورین صدر کم جونگ کا کوئی بیٹا بھی ہے؟ جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی کو فکر لگ گئی

رائٹرز کے مطابق شمالی کوریا میں ساحلی تفریحی مقام وونسان کالما، سکی ریزورٹس، واٹر پارکس، ہوٹلوں، کھیلوں کے مراکز اور دیگر تفریحی منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔ وونسان کالما میں 2025 کے دوسرے نصف میں 3 لاکھ سے زیادہ مقامی افراد کے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔

ماہرین کے مطابق حکومت شہریوں کی بڑھتی ہوئی آمدن کو سرکاری دکانوں اور تفریحی مراکز کی جانب منتقل کرکے غیر رسمی مارکیٹوں کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ شمالی کوریا میں تقریباً 80 لاکھ افراد پر مشتمل ایک متوسط طبقہ موجود ہے جس کے پاس بچت تو ہے لیکن خرچ کرنے کے مواقع محدود ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کم جونگ اُن کی یہ حکمت عملی عوامی بے چینی کم کرنے اور ملکی معیشت کو سہارا دینے میں مدد دے سکتی ہے، تاہم ایک ماہر کے مطابق ’صارفین کو خرچ کرنے کا موقع دینا کچھ وقت خرید سکتا ہے، ہمیشہ کی وفاداری نہیں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp