جنوبی کوریا کی قومی انٹیلی جنس سروس اس بات کا جواب تلاش کر رہی ہے کہ آیا شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اُن کا کوئی بڑا بیٹا ہے یا نہیں جو ملک کی قیادت سنبھال سکے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی کوریا میں جوہری سرگرمیوں میں تیزی، یورینیم افزودگی کی صلاحیت بڑھا دی گئی
اس کے ساتھ ہی سیئول کی خفیہ ایجنسی نے اپنے اس اندازے کا اعادہ کیا ہے کہ ان کی بیٹی ہی ملک کی قیادت کی ممکنہ وارث ہے۔
ایجنسی کا جمعرات کو جاری ہونے والا بیان بظاہر اس حالیہ میڈیا رپورٹ کے جواب میں تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوبی کوریا کی انٹیلی جنس نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کم اور ان کی اہلیہ ری سول جو کا کوئی بیٹا نہیں ہے۔
نیشنل انٹیلی جنس سروس نے کہا کہ اگر بیٹا موجود بھی ہے تو وہ کم کی جانشینی کے لیے اس پوزیشن میں نہیں ہے جو سنہ 2011 میں اپنے والد کی وفات کے بعد اقتدار میں آئے تھے۔
مزید پڑھیے: شمالی کوریا نے جوہری صلاحیت رکھنے والا دوسرا جنگی جہاز بحری بیڑے میں شامل کرلیا
لہٰذا ممکنہ وارث کم کی بیٹی کِم جو اے ہوں گی جن کی عمر تقریباً 13 سال ہے۔ تاہم این آئی ایس نے دعویٰ کیا کہ اس بات کی تصدیق کے لیے کوششیں جاری ہیں کہ آیا ان کا کوئی بڑا بھائی ہے یا نہیں۔
نیشنل انٹیلی جنس سروس نے سنہ 2023 میں رپورٹ کیا تھا کہ ان کا ایک بڑا بھائی ہے حالانکہ ایجنسی نے کہا تھا کہ وہ اب بھی بیٹے سے متعلق رپورٹس کی تصدیق کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کم جونگ ان کا ایک چھوٹا بچہ بھی ہے جس کی جنس کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
بیٹی سنہ 2022 کے آخر سے فوجی پریڈ اور میزائل لانچ جیسے ہائی پروفائل ایونٹس میں اکثر اپنے والد کے ساتھ نظر آتی رہی ہیں جو ان کے بڑھتے ہوئے سیاسی پروفائل کو نمایاں کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: شمالی کوریا روس کو مزید فوج بھیجنے کی تیاریاں کر رہا ہے، جنوبی کوریا کا دعویٰ
تاہم ناقدین کا خیال ہے کہ مردوں کے زیر تسلط شمالی کوریا خواتین کی قیادت کو قبول نہیں کرے گا اور کچھ کا کہنا ہے کہ کم ابھی اتنی بری نہیں کہ ان کو وارث نامزد کیا جائے۔














