مہنگی بجلی کا بوجھ برقرار، آئی پی پیز سے طویل مدتی معاہدوں کا انکشاف

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت کی جانب سے ایک طرف آئی پی پیز سے جان چھڑانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تو دوسری جانب بعض پاور پلانٹس کے ساتھ 30 اور 40 سال تک کے نئے معاہدے کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مختلف آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی مدت اور ان کے مؤثر رہنے سے متعلق تفصیلات سامنے آگئی ہیں، جبکہ موجودہ حکومت نے بھی 2025 میں 4 آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کیے۔

رپورٹ کے مطابق حکومت نے جامشورو کول نامی پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو 30 سالہ مدت کا معاہدہ کیا۔

10 برسوں میں آئی پی پیز قوم کے کتنے کھرب روپے لے اڑیں؟

وی نیوز کو دستیاب وزارت توانائی کی دستاویزات کے مطابق 2015 سے 2024 تک گزشتہ 10 برسوں میں 37 آئی پی پیز کو بجلی بنانے کے چارجز کے علاوہ کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 34 کھرب 52 ارب 41 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق صرف مالی سال 2023-24 میں ان آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹ کی مد میں 9 کھرب 79 ارب روپے ادا کیے گئے۔

ان 37 آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں مالی سال 2023 میں 6 کھرب 55 ارب روپے، 2022 میں 3 کھرب 36 ارب روپے، 2021 میں 3 کھرب 65 ارب روپے، 2020 میں 3 کھرب 55 ارب روپے، 2019 میں 2 کھرب 34 ارب روپے، 2018 میں ایک کھرب 69 ارب روپے، 2017 میں 121 ارب روپے، 2016 میں 118 ارب روپے اور 2015 میں 117 ارب روپے ادا کیے گئے۔

دستاویزات کے مطابق بعض آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدے 2057 تک مؤثر ہیں، جس کا مطلب ہے کہ بعض کمپنیوں کو آئندہ کئی دہائیوں تک ادائیگیاں جاری رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:وفاقی کابینہ نے 5 آئی پی پیز کے معاہدے منسوخ کرنے کی تجویز منظور کرلی

سابق وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر اور جنرل پرویز مشرف کی کابینہ میں 1999 سے 2002 تک شامل رہنے والے عبدالرزاق داؤد ’روش پاکستان پاور لمیٹڈ نامی آئی پی پی‘ کے مالک ہیں۔ اس کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 60 ارب 3 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم رہنے والے ندیم بابر 2 آئی پی پیز کے مالک ہیں۔ ان کی کمپنی ’صبا پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا اور اسے گزشتہ 10 برسوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 17 ارب 24 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

ندیم بابر ’اوریئنٹ پاور پروجیکٹ‘ کے محمود گروپ کے شراکت دار بھی ہیں۔ اس کمپنی کو 22 جولائی 2005 کو لائسنس جاری کیا گیا اور 31 اگست 2032 تک 229 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں 39 ارب روپے ادا کیے گئے۔

کاروباری شخصیت میاں منشا کا منشا گروپ 4 آئی پی پیز کا مالک ہے، جنہیں گزشتہ 10 برسوں میں کیپیسٹی چارجز کی مد میں مجموعی طور پر ایک کھرب 81 ارب 43 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔

منشا گروپ کی ’اے ای ایس لالپیر پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کے ساتھ 25 اگست 2027 تک 362 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں 49 ارب 38 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

’اے ای ایس پاک جنریشن پرائیویٹ کمپنی‘ کو بھی 26 اگست 2003 کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کے ساتھ 25 اگست 2026 تک 365 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں 50 ارب 83 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

منشا گروپ کی ’نشاط چونیاں پاور پراجیکٹ‘ کو 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کے ساتھ 29 جون 2035 تک 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں 41 ارب 42 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

’نشاط پاور پراجیکٹ‘ کو بھی 6 ستمبر 2007 کو لائسنس جاری کیا گیا اور اس کے ساتھ 30 دسمبر 2034 تک 200 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ کیا گیا۔ کمپنی کو گزشتہ 10 برسوں میں 39 ارب 80 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

’چائنا پاور حب جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو مالی سال 24-2023 میں ایک کھرب 37 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 23-2022 میں ایک کھرب 18 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:بجلی کی ہوشربا قیمتوں اور آئی پی پیز کو ادائیگیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر

ایک اور چینی ’آئی پی پی ہوآنگ شندوگ روئی انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو مالی سال 24-2023 میں ایک کھرب 13 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 23-2022 میں ایک کھرب 2 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

’دی کول بلاک 1 پاور جنریشن کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو مالی سال 24-2023 میں ایک کھرب 59 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 23-2022 میں 18 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

’پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو گزشتہ مالی سال کے دوران ایک کھرب 20 کروڑ روپے جبکہ مالی سال 23-2022 میں 77 کروڑ روپے کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادا کیے گئے۔

آئی پی پیز کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں اور کیپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی بھاری ادائیگیوں کے باعث بجلی کی قیمت اور صارفین پر پڑنے والے مالی بوجھ کے حوالے سے سوالات اٹھتے رہے ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظرثانی اور بجلی کی لاگت کم کرنے کے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp