بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی بیٹی سیما واجد نے عالمی ادارۂ صحت کے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے علاقائی ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
رائٹرز کے مطابق سیما واجد نے یہ فیصلہ اپنے خلاف عالمی ادارۂ صحت اور بنگلہ دیشی حکام کی جانب سے مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے بعد کیا۔ وہ 2024 کے آغاز میں 5 سالہ مدت کے لیے اس عہدے پر مقرر ہوئی تھیں۔
عالمی ادارۂ صحت نے بتایا کہ ایک کمیٹی نے سیما واجد کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی، جس کے ایک روز بعد انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔ انہیں گزشتہ سال سے بغیر تنخواہ انتظامی رخصت پر رکھا گیا تھا۔
Saima Wazed Putul, the WHO Southeast Asia head and daughter of ousted prime minister Sheikh Hasina, resigned yesterday, according to her resignation letter seen by Reuters, following fraud investigations by the UN agency and Bangladeshi authorities.
Link in comment pic.twitter.com/hGE1Ws2QtT
— The Business Standard (@tbsnewsbd) September 10, 2026
رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کے انسدادِ بدعنوانی کمیشن نے مارچ 2025 میں سیما واجد کے خلاف دھوکا دہی اور جعل سازی کے الزامات میں مقدمات درج کیے تھے۔ عالمی ادارۂ صحت نے بھی ان پر چین کے سفر سے متعلق مالی بے ضابطگیوں اور تعلیمی اسناد کے بارے میں غلط معلومات فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے تھے۔
سیما واجد نے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے سے روکا گیا، جبکہ تقریباً ایک سال سے بغیر معاوضے کے رخصت پر رہنے کے باعث ان کی مالی مشکلات ناقابل برداشت ہوگئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:ملک سے فرار شیخ حسینہ واجد کا دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آ کر گرفتاری دینے کا اعلان
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق ان کے استعفے پر علاقائی کمیٹی اور ایگزیکٹو بورڈ غور کریں گے۔ نئے علاقائی سربراہ کی تعیناتی تک ڈاکٹر نلیش بدھا قائم مقام علاقائی سربراہ کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔














