خراٹے لینے والے کے قریب سونا صحت کو متاثر کر سکتا ہے

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر آپ کا شریکِ حیات خراٹے لیتا ہے تو رات میں بار بار آنکھ کھلنے سے تھکن، چڑچڑاپن، توجہ اور یادداشت متاثر ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مسلسل خراٹوں کو محض معمولی خلل سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات یہ نیند میں سانس رکنے کی بیماری کی علامت بھی ہوسکتے ہیں۔

خراٹے اس وقت آتے ہیں جب نیند کے دوران اوپری سانس کی نالی میں موجود نرم بافتیں ارتعاش پیدا کرتی ہیں۔ برطانوی اسنورننگ اینڈ سلیپ ایپنیا ایسوسی ایشن کے مطابق برطانیہ کی تقریباً 40 فیصد بالغ آبادی خراٹے لیتی ہے اور یہ مسئلہ خواتین کے مقابلے میں مردوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ ایک امریکی سروے کے مطابق خراٹے لینے والے فرد کے قریب سونے والے تقریباً 75 فیصد افراد نے اعتراف کیا کہ ان کی نیند متاثر ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے کیا خواتین بھی خراٹے لیتی ہیں؟ ریسرچرز نے غلط فہمی دور کردی

ماہرین کا کہنا ہے کہ رات میں بار بار نیند ٹوٹنے سے جسم کو مکمل آرام اور بحالی کے لیے درکار گہری نیند کا دورانیہ کم ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اگلے روز تھکن، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور یادداشت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، جبکہ نیند کی کمی ہارمونز کے توازن اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کی صلاحیت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ بعض افراد میں اس کا نتیجہ چڑچڑاپن، بے چینی اور دوسروں کے ساتھ بحث و تکرار کی صورت میں بھی نکل سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر خراٹے بہت زیادہ ہوں تو پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ کہیں یہ نیند میں سانس رکنے کی بیماری (سلیپ ایپنیا) کی علامت تو نہیں۔ نیند کے دوران سانس کا بار بار رکنا، گھٹن یا سانس لینے میں دشواری، بار بار آنکھ کھلنا اور صبح کے وقت سر درد اس بیماری کی اہم علامات ہیں۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے، کیونکہ بعض مریضوں کو مسلسل مثبت دباؤ کے ذریعے سانس بحال رکھنے والی مشین یا دیگر طبی علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے خراٹوں کی عادت کی ممکنہ وجوہات اور جسم پر اثرات

اگر مسئلہ صرف خراٹوں تک محدود ہو تو وزن کم کرنا، تمباکو نوشی ترک کرنا، سونے سے قبل شراب سے پرہیز اور کمر کے بجائے کروٹ لے کر سونا مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ بعض صورتوں میں ناک کی بندش یا الرجی کا علاج اور نچلے جبڑے کو قدرے آگے رکھنے والا مخصوص منہ کا آلہ بھی تجویز کیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ خراٹوں کو طویل عرصے تک برداشت کرنے کے بجائے بروقت طبی مدد حاصل کریں، کیونکہ بہتر نیند نہ صرف صحت بلکہ ازدواجی تعلق اور مجموعی ذہنی سکون کے لیے بھی اہم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بابر اعظم کی بیٹنگ میں تکنیکی خامی کی نشاندہی، محمد یوسف نے اہم مسئلہ بتا دیا

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں