راولپنڈی میں قتل ہونے والی حنا جاوید کے اہلِخانہ نے پولیس تفتیش پر سنگین تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کیس کی تحقیقات آزاد ٹیم کے سپرد کرنے کا مطالبہ کردیا۔
حنا جاوید کے بھائی نے چیئرمین قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کو خط لکھا، جبکہ اہلِخانہ کی جانب سے وزارتِ قانون و انصاف اور پارلیمانی کاکس کمیٹی کو بھی خطوط ارسال کیے گئے ہیں، جن میں معاملے میں مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں:حنا جاوید قتل کیس ہائی پروفائل قرار، خصوصی کمیٹی قائم
اہلِخانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ تفتیش ایف آئی آر کے مطابق آگے نہیں بڑھ رہی اور خدشہ ہے کہ حنا جاوید کے قتل کی اصل حقیقت چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ خاندان کے مطابق تفتیش کا رخ مبینہ طور پر مرکزی مشتبہ شخص کے بجائے گھریلو ملازم کی جانب موڑا جا رہا ہے۔
خاندان نے اہم شواہد محفوظ نہ کیے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی مشتبہ شخص اور گھریلو ملازم کے موبائل فونز سمیت دیگر الیکٹرانک آلات کا فوری فرانزک معائنہ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
اہلِخانہ کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے کیس آزاد تفتیشی ٹیم کے سپرد کیا جائے تاکہ حنا جاوید کی موت کے اصل حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو۔
مزید پڑھیں:حنا جاوید قتل کیس: ’وہ شوہر کے غصے سے بچنے کی کوشش کرتی تھیں‘
رپورٹ کے مطابق گھریلو ملازم نے مبینہ طور پر حنا جاوید کو گلا گھونٹنے اور تشدد کا اعتراف کیا ہے، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ایک ہڈی ٹوٹنے کا ذکر ہے اور موت کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکا۔
اہلِخانہ نے تمام شواہد محفوظ کرکے ان کا مکمل فرانزک جائزہ لینے اور تحقیقات شفاف انداز میں آگے بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔














