امریکا کی حکمران جماعت ’ری پبلیکن پارٹی‘ میں ان دنوں پوری سرگرمی سے سوچا جارہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد پارٹی کا قائد کون ہوگا اور کون اگلا صدارتی امیدوار ہوگا؟ حال ہی میں ایک پارٹی کنونشن میں مندوبین سے یہ سوال پوچھا گیا تو ان کی رائے منقسم محسوس ہوئی۔
حال ہی میں ریپبلکن کے وسط مدتی کنونشن کے دوران جب نائب صدر جے ڈی وینس نے شرکا سے خطاب کیا تو ہال میں موجود ایک حامی نے ’جے ڈی 48‘ کا نعرہ لگایا، جس پر دیگر افراد نے بھی آواز ملائی۔ وینس نے مسکراتے ہوئے نعرے بازی کو روکا اور کہا، ’ہمیں پہلے رواں سال نومبر کے انتخابات پر توجہ دینی ہے، اس کے بعد کے معاملات پر بعد میں بات کریں گے۔‘
ڈلاس کے گرم موسم میں منعقدہ اس کنونشن میں وینس اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں بھرپور شرکت کی ترغیب دی، جو ٹرمپ کے دورِ اقتدار کے اختتام اور ان کے بعد صدارتی دوڑ کے آغاز کا اشارہ ہے۔
نیبراسکا سے تعلق رکھنے والے ٹرمپ کے ایک حامی نے کہا کہ وینس کی شاندار تقریر نے غالباً 2028 کے صدارتی ٹکٹ کے لیے ان کی نامزدگی کو یقینی بنا دیا ہے۔ خود ٹرمپ نے بھی خطاب کے بعد وینس کو ’انتہائی باصلاحیت‘ قرار دیتے ہوئے ان کے کام کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیے ’میکسیکو پسند ہے تو وہاں چلے جائیں‘، جے ڈی وینس کی تقریر میں احتجاج، پرچم لہرانے والا شخص باہر نکال دیا گیا
تاہم، ڈلاس کے امریکن ایئرلائنز سینٹر کے راہداریوں میں وینس کی بحیثیتِ جانشین پوزیشن ابھی مکمل طور پر طے شدہ نظر نہیں آتی۔ 2 درجن کے قریب مندوبین سے گفتگو کے دوران 2028 کے صدارتی امیدوار کے حوالے سے کوئی واضح اتفاقِ رائے سامنے نہیں آیا۔
جہاں وینس کا نام سرِ فہرست تھا، وہیں وزیرِ خارجہ مارکو روبیو، ٹیکساس کے سینیٹر ٹیڈ کروز اور فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس بھی پسندیدہ رہنماؤں کی فہرست میں شامل تھے۔ اکثر نمائندوں کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال کسی ایک نام پر حتمی رائے دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
یہ غیر یقینی صورتحال ڈیموکریٹک پارٹی کی اندرونی کشمکش سے ملتی جلتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں پارٹی کس طرح ٹرمپ کی شخصیت کے گرد گھومتی رہی ہے، جس کے باعث بہت سے ریپبلکنز کے لیے ٹرمپ کے بغیر مستقبل کا تصور کرنا مشکل ہو رہا ہے۔
ٹیکساس کے کاروباری طبقے اور عوام میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ڈلاس سے تعلق رکھنے والی ایک آئی ٹی مینیجر نے فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس کو اپنی پہلی پسند قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلوریڈا میں جو کام کیا ہے، وہ پورے امریکا کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ دوسری جانب، ہیوسٹن کی ایک رہائشی نے مارکو روبیو کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی خطرات اور کمیونزم سے درپیش چیلنجز کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں اور ان کی شخصیت میں بہترین قیادت کی صلاحیت موجود ہے۔
بعض مندوبین کا ماننا ہے کہ حتمی فیصلہ اس بات پر ہوگا کہ صدر ٹرمپ خود کس کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ ٹیکساس سے تعلق رکھنے والی نورما العروسان نے بتایا کہ وہ وینس اور روبیو کے درمیان فیصلہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں، اور ان کا حتمی انتخاب اس بات پر منحصر ہوگا کہ ٹرمپ کس کے نام کی توثیق کرتے ہیں۔
اگرچہ 2028 کی صدارتی دوڑ کے لیے جے ڈی وینس کو ایک فطری اور مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے، لیکن پارٹی کے اندر دیگر غیر معروف یا حیران کردینے والے امیدواروں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ بعض مندوبین نے نوجوان قانون سازوں اور نچلی سطح کے رہنماؤں میں دلچسپی کا اظہار کیا تاکہ سیاسی منظرنامے کو ایک بالکل نیا رخ دیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے ری پبلکن جیتے تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر ملیں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان
ڈپلومیٹک اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، وینس کا نائب صدر کا عہدہ سنبھالنا ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں اس کردار کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ تاثر یہی ہے کہ وینس کی شخصیت ٹرمپ سے مختلف ہے، لیکن ان کی سیاسی سوچ اور سِدھے سادے انداز کی وجہ سے وہ ٹرمپ کے نظریات کو آگے بڑھانے کے لیے بہترین انتخاب تصور کیے جا رہے ہیں۔ بہرحال، کنونشن کے بیشتر شرکا کا متفقہ طور پر یہی ماننا تھا کہ ریپبلکن پارٹی کے پاس قابل اور تجربہ کار رہنماؤں کی ایک مضبوط ٹیم موجود ہے، اور صدارتی پرائمری کے دوران ایک بہترین امیدوار ابھر کر سامنے آئے گا۔














