ہزاروں امریکیوں کا ڈیٹا ہیک کرنے کا الزام، 3 بھارتی کمپنیوں پر پابندی کی تجویز

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹرز کے ایک 2 جماعتی گروپ نے ٹرمپ انتظامیہ کو خط لکھ کر بھارت میں قائم 3 کمپنیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جن پر ہزاروں امریکی شہریوں اور امریکی کمپنیوں کا ڈیٹا ہیک کرکے چوری کرنے کے الزامات ہیں۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ڈیموکریٹ سینیٹرز رون وائیڈن اورشیلڈن وائٹ ہاؤس اور  ریپبلکن سینیٹر پیٹ ہیریگن نے امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لوٹنک پر زور دیا کہ وہ بھارت میں قائم کمپنیوں سن کسڈ آرگینک پرائیویٹ لمیٹڈ، مبیل ٹروکس لمیٹڈ اور سائبر روٹ لمیٹڈ کے خلاف کارروائی کریں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ہیکرز قطر کیخلاف سائبر حملے کیوں کر رہے ہیں؟

خط میں کہا گیا ہے کہ بھارت سے کام کرنے والے متعدد کرائے کے سائبر گروہ گزشتہ 15 برس سے امریکی شہریوں، کاروباری اداروں اور ان کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے خلاف ہدف بنا کر جاسوسی کررہے ہیں۔

سینیٹرز کے مطابق رائٹرز اور دی سٹیزن لیب کی تحقیقات سے انکشاف ہوا ہے کہ ان کمپنیوں نے نجی ایکویٹی فرموں، دوا ساز کمپنیوں اور امریکا کی بڑی قانونی فرموں سے وابستہ ایک ہزار سے زائد وکلا کو ہیکنگ کا نشانہ بنایا ہے ،ان کارروائیوں کا مقصد مبینہ طور پر جاری قانونی مقدمات پر اثرانداز ہونا تھا۔

سینیٹرز نے الزام عائد کیا کہ ان سائبر گروہوں اور ان کے ساتھیوں نے امریکی میڈیا اداروں کی تحقیقی رپورٹنگ کو دبانے کے لیے غیرملکی عدالتوں کا بھی استعمال کیا جس کے نتیجے میں ایک موقع پر تحقیقات سے متعلق مواد عالمی سطح پر ہٹوا دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: نامعلوم ہیکرز کی جانب سے بھارتی نیوز چینلز ہیک، نشریات کے دوران پاکستان کا قومی ترانہ نشر

خط میں کہا گیا ہے کہ ان کمپنیوں نے گوگل میٹا مائیکروسافٹ اور دی نیو یارکر سمیت امریکی ٹیکنالوجی اور میڈیا اداروں کے خلاف مقدمات دائر کر رکھے ہی جن کا مقصد مبینہ ہیکنگ سرگرمیوں پر تنقید کو خاموش کرنا اور حقائق کو منظر عام پر آنے سے روکنا ہے۔

سینیٹرز نے امریکی محکمہ تجارت کے بیورو آف انڈسٹری اینڈ سکیورٹی سے مطالبہ کیا کہ تینوں کمپنیوں کو اینٹیٹی لسٹ میں شامل کیا جائے، تاکہ امریکی سافٹ ویئر، کلاؤڈ انفراسٹرکچر اور سائبر سکیورٹی ٹولز تک ان کی رسائی کو محدود کیا جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp