وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے، گلگت بلتستان کے مالی، انتظامی اور آئینی معاملات کو مربوط انداز میں دیکھا جائے گا، جبکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں۔
جمعے کے روز وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی زیرصدارت جی بی ایشوز ورکنگ گروپ کا اجلاس ہوا، جس میں گلگت بلتستان، وزارتِ دفاع، وزارتِ خارجہ، وزارتِ امورِ کشمیر و گلگت بلتستان اور جی بی کونسل کے حکام نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے شہریوں کا پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی
اجلاس میں گلگت بلتستان کے آئینی، قانونی، مالی اور انتظامی امور پر تفصیلی غور کیا گیا، جبکہ جی بی کے آئینی و قانونی معاملات سے متعلق مختلف آپشنز اور سابقہ رپورٹس کا بھی جائزہ لیا گیا۔
شرکا نے گلگت بلتستان کے مالیاتی وسائل کے لیے مختلف تجاویز اور ماڈلز کا جائزہ لینے کے ساتھ موجودہ گورننس فریم ورک میں عملی اصلاحات پر بھی غور کیا۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی و قانونی معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور ان معاملات پر جامع و تفصیلی غور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنا کر قومی اسمبلی، سینیٹ اور این ایف سی میں نمائندگی دی جائے، وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے مالی، انتظامی اور آئینی معاملات کو مربوط انداز میں دیکھا جائے گا، جبکہ مسائل کے حل کے لیے عملی اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے ورکنگ گروپ کو عبوری رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹ جامع غور و خوض کے بعد مرتب کی جائے گی۔
وزیر قانون نے اگلے اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کو بھی مدعو کرلیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف گلگت بلتستان کا مؤقف بھی لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے لیے متفقہ آئینی و قانونی حل کی تشکیل کے لیے مزید وقت درکار ہوگا، جبکہ مستقبل کے انتظامی و آئینی انتظام پر وسیع مشاورت کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت کا گلگت بلتستان جانے والے سیاحوں پر ٹیکس لگانے کا منصوبہ
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے آئینی معاملات پر تمام متعلقہ فریقین کو اعتماد میں لیا جائے گا اور اس معاملے پر قومی اتفاق رائے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق اور احساسِ مساوات کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔














