گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنا کر قومی اسمبلی، سینیٹ اور این ایف سی میں نمائندگی دی جائے، وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ

ہفتہ 25 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو عبوری طور پر پاکستان کا آئینی صوبہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ یہاں کے عوام کو قومی اسمبلی، سینیٹ اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) سمیت تمام قومی اداروں میں مؤثر اور آئینی نمائندگی مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان کے نئے وزیراعلیٰ امجد حسین کی 12 رکنی کابینہ تشکیل، کون کون شامل ہوا؟

وی نیوز کے خصوصی پروگرام ’صحافت اور سیاست‘ میں گفتگو کرتے ہوئے امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل کے حوالے سے ان کی جماعت کا مؤقف واضح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی مستقل صوبائی حیثیت کی بات نہیں کر رہی کیونکہ گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہے اور استصواب رائے کے حق کو بھی برقرار رکھنا ضروری ہے تاہم عبوری آئینی انتظام کے ذریعے عوام کو بنیادی آئینی حقوق فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے گلگت بلتستان کے عوام سے حق ملکیت، حق حاکمیت اور حق روزگار کے وعدے کیے تھے، اب حکومت ملنے کے بعد ان وعدوں پر عملدرآمد کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح حق ملکیت سے متعلق قانون پر مکمل عملدرآمد، گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کا حصول، روزگار کے مواقع پیدا کرنا، توانائی کے بحران پر قابو پانا اور سیاحت کے فروغ کے ذریعے مقامی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔

ایڈووکیٹ امجد حسین نے کہا کہ حالیہ انتخابی کامیابی صرف انتخابی مہم کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ 5 سے 6 برس کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کی مسلسل جدوجہد کا ثمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کئی سال قبل گلگت بلتستان کے لیے حق ملکیت، حق حاکمیت اور حق روزگار کا بیانیہ دیا جس پر پارٹی مسلسل عوام کے درمیان کام کرتی رہی۔

مزید پڑھیے: گلگت بلتستان میں جنگلات کا تحفظ اور غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اولین ترجیح ہے، سیکریٹری جنگلات

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دور میں حکومت نہ ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی نے اسمبلی میں موجود اپنی نشستوں کی بنیاد پر لینڈ ریفارمز متعارف کرائیں تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کے زمینوں سے متعلق دیرینہ مطالبات پورے کیے جا سکیں۔ ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ گلگت بلتستان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتی رہی اور اسی مستقل جدوجہد کے باعث عوام نے انہیں دوبارہ اعتماد دیا۔

حقِ ملکیت پر عملدرآمد اولین ترجیح

وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ عوام نے انہیں حقِ ملکیت سے متعلق قانون پر عملدرآمد کے لیے ووٹ دیا ہے اس لیے حکومت کی پہلی ذمہ داری یہی ہوگی کہ اس قانون کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے اور عوام کو ان کی زمینوں کا قانونی مالک بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اب کسی قسم کا عذر باقی نہیں رہا اس لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ان کے حقوق مل سکیں۔

روزگار اور معیشت پر توجہ

امجد حسین نے کہا کہ حکومت کا تیسرا بڑا ہدف حق روزگار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرکاری اور نجی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے گا تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھیں، انفراسٹرکچر بہتر ہو اور غربت میں کمی آئے۔

صوبائی قرارداد وفاق کو بھیج دی

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے بتایا کہ گلگت بلتستان اسمبلی نے متفقہ طور پر عبوری صوبائی حیثیت کے حق میں قرارداد منظور کر کے وفاق کو بھجوا دی ہے اور اب یہ معاملہ پاکستان کی پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت کے پاس ہے۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کے امجد حسین نے گلگت بلتستان کے وزیرِ اعلیٰ کا حلف اٹھا لیا

ان کا کہنا تھا کہ جب بھی آئینی ترمیم پر بات ہوگی تو گلگت بلتستان کے آئینی حقوق بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

کابینہ کی تشکیل پر اختلافات کی تردید

ایڈووکیٹ امجد حسین نے کابینہ کی تشکیل پر اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پورٹ فولیوز کی تقسیم کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں اور اتحادی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کے ذریعے تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کر لیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے: گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیراعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کون ہیں؟

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کے کئی ارکان کو وزارتیں نہیں دی گئیں کیونکہ اتحادی جماعت آئی پی پی کو بھی نمائندگی دینا ضروری تھا۔

پی ٹی آئی کو مکمل سیاسی موقع ملنا چاہیے تھا

ایک سوال کے جواب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں مکمل سیاسی موقع ملتا اور پھر مقابلہ ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان کام کرے، صرف مقبولیت یا بیانیے کی بنیاد پر سیاست دیرپا نہیں ہوتی بلکہ مسلسل عوامی رابطہ اور عملی سیاست ضروری ہے۔

امجد حسین ایڈووکیٹ کے مطابق عمران خان نے اپنی مقبولیت کی بنیاد پر ایسے بیانیے اختیار کیے جن سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا ہوئے اور اب سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان جا کر ان سوالات کے جواب دیں۔

الیکشن میں لیول پلیئنگ فیلڈ ملی، بعد میں مشکلات کا سامنا رہا

وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران 7 تاریخ تک پیپلز پارٹی کو لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل رہی تاہم اس کے بعد حکومت سازی کے مرحلے میں پارٹی کو مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت بنانا ایک الگ مرحلہ تھا اور اس دوران مختلف رکاوٹیں سامنے آئیں تاہم بالآخر پیپلز پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب رہی۔

مذاکرات جمہوری عمل ہیں

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے کبھی کسی کے مطالبات ماننے کی بات نہیں کی بلکہ صرف مذاکرات شروع کرنے کی حمایت کی۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور کسی گروہ کو کالعدم قرار دینے کے باوجود بھی مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوتے۔

آزاد کشمیر کی مخصوص نشستوں پر مؤقف

آزاد کشمیر کی بارہ مخصوص نشستوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان نشستوں کو ختم کرنے کے بجائے وہاں سے ملنے والے عوامی مینڈیٹ کے تناسب سے تقسیم کیا جانا چاہیے تاکہ تمام سیاسی جماعتوں اور مہاجرین کی نمائندگی برقرار رہے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا دفاع

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کی جانب سے غریب خواتین تک براہ راست پہنچنے والی سب سے بڑی سماجی معاونت یہی پروگرام ہے۔

مزید پڑھیں: گلگت بلتستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو کن چیلنجز کا سامنا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ اصلاحات ہمیشہ اوپر سے شروع ہونی چاہییں، غریبوں کا سہارا ختم کرنا اصلاحات نہیں بلکہ اشرافیہ کے اخراجات اور بدانتظامی پر توجہ دینا زیادہ ضروری ہے۔

ان کے مطابق اس پروگرام سے فائدہ اٹھانے والی خواتین وہ ہیں جو نہ روزگار کے قابل رہتی ہیں اور نہ ہی ہنر سیکھنے کی عمر میں ہوتی ہیں، اس لیے ان کے لیے یہ امداد اہم سہارا ہے۔

توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات بڑے چیلنجز

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کا سب سے بڑا مسئلہ توانائی کا بحران ہے جبکہ قدرتی آفات، سڑکوں کی حالت اور مواصلاتی نظام بھی اہم چیلنجز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پی ایس ڈی پی منصوبوں کی رفتار تیز کرنا، بلوں کی وصولی بہتر بنانا، ٹیرف اصلاحات اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے سرمایہ کاری ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں موبائل فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات بھی ناکافی ہیں کیونکہ کئی ٹاورز بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہے جس کے حل کے لیے حکومت مختلف تجاویز پر کام کرے گی۔

سیاحت معیشت کی بنیاد بن سکتی ہے

گفتگو کے اختتام پر وزیراعلیٰ امجد حسین نے کہا کہ گلگت بلتستان کی معیشت کے لیے سیاحت ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا گلگت بلتستان دیکھنا چاہتی ہے تاہم اس کے لیے سفری سہولتوں کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ پاکستان آنے والے سیاح آسانی سے گلگت بلتستان پہنچ سکیں اور محفوظ انداز میں واپس جا سکیں۔

مزید پڑھیے: پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب، امجد ایڈووکیٹ بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسکردو ایئرپورٹ کو بین الاقوامی حیثیت ملنے کے بعد وہاں پروازوں کا باقاعدہ آپریشن ہونا چاہیے تاکہ سیاحت اور مقامی معیشت کو مزید فروغ مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار