وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے حکام کو واضح ہدایت کی ہے کہ کسی بھی علاقے میں 2 گھنٹے سے زیادہ بجلی بند نہ کی جائے۔
اسلام آباد میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ پر ایک اہم جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے موجودہ صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں بجلی کی لوڈ مینیجمینٹ پر اہم جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا.
وزیراعظم نے ملک کے مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لے لیا. وزیراعظم نے ملک کے مختلف شہروں میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ پر اظہار برہمی کیا. وزیرِ… pic.twitter.com/dOqY2g25fd
— Prime Minister’s Office (@PakPMO) September 11, 2026
انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے۔
آر ایل این جی کی ترسیل میں مسائل اور خطے کی صورتحال
اجلاس کے دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ خطے کی حالیہ کشیدہ صورتحال اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی ترسیلی مشکلات کے باعث پاکستان کو آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی چوری کا توڑ ، حکومت فیڈر کے بجائے ٹرانسفارمز کی سطح پر لوڈ شیڈنگ کی تیاری کررہی ہے : اویس لغاری
گیس کی اس قلت سے بجلی کی پیداوار میں کمی آئی، جس کے باعث طلب اور رسد کا توازن برقرار رکھنے کے لیے حکام کو مجبوراَ لوڈ مینجمنٹ کا سہارا لینا پڑ رہا ہے۔
اس پر وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آر ایل این جی کی ترسیل کے تعطل سے نمٹنے کے لیے فوری اور ہنگامی اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جا سکے۔
شکایات کے ازالے کے لیے کمیٹیوں کا قیام
عوامی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے تمام ڈسکوز (بجلی تقسیم کار کمپنیوں) کی سطح پر ایک ہفتے کے اندر ’کنزیومر گریوینس ریڈریسل کمیٹیاں‘ فعال کرنے کا حکم دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کمیٹیوں میں عوامی نمائندگی کو بھی لازمی شامل کیا جائے تاکہ نچلی سطح پر لوگوں کے مسائل تیزی سے حل ہو سکیں۔
ہیلپ لائن 118 اور مون سون کی صورتحال
حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہری بجلی سے متعلق اپنی شکایات ہیلپ لائن نمبر 118 پر درج کروا سکتے ہیں۔
سسٹم کے تحت شکایت کنندہ کو فوری طور پر ٹوکن نمبر اور ازالے کا متوقع وقت فراہم کیا جاتا ہے۔
مزید برآں اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حالیہ مون سون بارشوں کے باعث اس وقت پورے ملک میں ماسوائے ضلع راجن پور کے 6 صارفین کے، کسی بھی علاقے میں بجلی منقطع نہیں ہے۔
اہم نوعیت کے اس اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، احد خان چیمہ، مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، سردار اویس لغاری، علی پرویز ملک، مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔














