ماہرنگ لانگو کی بہن نادیہ بلوچ کا یہ دعویٰ کہ ماہرنگ لانگو نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
حقائق کے مطابق ماہرنگ لانگو نے متعدد مواقع پر حکومت بلوچستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل سے انکار کیا اور مذاکرات کی میز پر آنے سے گریز کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مذاکرات کا راستہ اختیار کیے جانے کے باوجود ماہرنگ لانگو نے بارہا مذاکراتی عمل میں شامل ہونے سے انکار کیا۔
ماہرنگ لانگو کا طرز عمل صرف مذاکرات سے انکار تک محدود نہیں رہا بلکہ وہ پاکستان کے آئین اور قانون کے حوالے سے بھی سخت اور توہین آمیز زبان استعمال کرتی رہی ہیں۔ ان کی جانب سے آئین اور قانون کو مسترد کرنے کا رویہ ان کے سیاسی مؤقف کی بنیادی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ماہرنگ لانگو نے دہشتگردوں اور ان کے بیانیے کی حمایت کی، جبکہ ان کی سرگرمیوں اور بیانیے نے تشدد کے رجحان کو تقویت دی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ورغلا کر ریاست مخالف سرگرمیوں اور تشدد کی طرف لے جانا کسی بھی سیاسی یا جمہوری جدوجہد کا حصہ نہیں ہو سکتا۔
ماہرنگ لانگو نے نوجوانوں کو سیاسی مکالمے اور آئینی راستے کے بجائے ریاست مخالف اور پرتشدد بیانیے کی جانب راغب کیا۔
ماہرین کے مطابق سیاسی اختلافات کا حل آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مذاکرات اور مکالمے سے ہی ممکن ہے نہ کہ تشدد اور ریاست مخالف بیانیے کے ذریعے۔
مزید پڑھیں: حقائق اور بیانیے میں واضح فرق، لانگو کیس میں عدالتی ریکارڈ اصل میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
نادیہ بلوچ کا حالیہ دعویٰ ماضی کے اس طرز عمل کو نظرانداز کرتا ہے جس میں ماہرنگ لانگو نے مذاکرات کے بجائے مزاحمت، تصادم اور ریاست مخالف بیانیے کو ترجیح دی۔













