اے سی سی ویمنز ٹی 20 ایشیا کپ 2026 میں ہانگ کانگ کے خلاف میچ کے دوران آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستان کی ٹاپ آرڈر بیٹر گل فیروزہ پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی بیٹر شفالی ورما کو ’پویلین لوٹ جائیے‘ کا اشارہ فاطمہ ثنا کو مہنگا پڑگیا، میچ فیس کا 10 فیصد گیا
آئی سی سی کے مطابق 27 سالہ گل فیروزہ کو کھلاڑیوں اور سپورٹ اسٹاف کے لیے وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی دفعہ 2.8 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا جس کا تعلق بین الاقوامی میچ کے دوران امپائر کے فیصلے پر اختلاف یا اعتراض ظاہر کرنے سے ہے۔
یہ واقعہ پاکستانی اننگز کے 5ویں اوور کی پہلی گیند پر پیش آیا جب دائیں ہاتھ کی بیٹر گل فیروزہ کو امپائر نے کاری چن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ قرار دیا۔ فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے گل فیروزہ نے اپنے بلے (بیٹ) کی طرف اشارہ کیا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ گیند ان کے بلے سے لگ کر گئی تھی۔
ڈی میرٹ پوائنٹ اور سزائیں
میچ فیس میں کٹوتی کے ساتھ ساتھ گل فیروزہ کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ 24 مہینوں کے دوران یہ ان کی دوسری خلاف ورزی ہے جس کے بعد ان کے کل ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد 2 ہو گئی ہے۔
گل فیروزہ نے آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز کی رکن سپریا رانی داس کی جانب سے تجویز کردہ سزا اور اپنی غلطی کو تسلیم کر لیا جس کے بعد باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ آن فیلڈ امپائرز رباب احسان اور رقیہ سلطانہ، تھرڈ امپائر شیبانی مشرا اور فورتھ امپائر شاتھیرا ذاکر نے ان کے خلاف چارج عائد کیا تھا۔
مزید پڑھیے: ٹی 20 ورلڈ کپ: آؤٹ ہونے پر پاکستانی بیٹر گل فیروزہ کا غصہ، سرزنش اور ڈی میرٹ پوائنٹ کا سامنا
واضح رہے کہ اگر کسی کھلاڑی کے ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد 4 تک پہنچ جائے تو اس پر ایک ٹیسٹ، 2 ون ڈے یا 2 ٹی 20 میچوں کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔
پہلی خلاف ورزی کا پس منظر
موجودہ 24 مہینوں کی مدت کے دوران گل فیروزہ کی پہلی خلاف ورزی رواں سال جون میں آئی سی سی ویمنز ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران سامنے آئی تھی۔
اس وقت انہیں دفعہ 2.2 (کرکٹ کے سامان، لباس یا گراؤنڈ کی اشیا کو نقصان پہنچانے یا بدسلوکی) کی خلاف ورزی پر لیول 1 کا قصوروار پایا گیا تھا جب انہوں نے آؤٹ ہونے کے بعد ڈَگ آؤٹ (ڈریسنگ روم کے باہر کھلاڑیوں کے بیٹھنے کی جگہ ) کے قریب غصے میں اپنا بیٹ اور دستانے پھینکے تھے۔
یاد رہے کہ پاکستان ویمنز ٹیم کی کپتان فاطمہ ثنا پر ویمنز ایشیا کپ میں بھارت کے خلاف میچ کے دوران آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی لیول 1 کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھارتی اوپنر شفالی ورما کو آؤٹ کرنے کے بعد انہیں پویلین جانے کا اشارہ کیا تھا جسے غیر مناسب اور اشتعال انگیز رویہ قرار دیا گیا۔ اس غلطی کا اعتراف کرنے پر ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ آئی سی سی کے ضوابط کے تحت جب بھی کسی کھلاڑی پر کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر کوئی ڈی میرٹ پوائنٹ عائد کیا جاتا ہے تو وہ پوائنٹ کھلاڑی کے ڈسپلنری ریکارڈ میں پورے 24 ماہ (2 سال) کے لیے فعال رہتا ہے۔ چونکہ گل فیروزہ پر اس سے قبل جون 2026 میں آسٹریلیا کے خلاف میچ کے دوران بھی ایک ڈی میرٹ پوائنٹ عائد کیا گیا تھا اس لیے ستمبر 2026 میں ہونے والی یہ نئی خلاف ورزی اسی 24 ماہ کی مقررہ مدت کے اندر شمار کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ: پاکستان کی گل فیروزہ سمیت خواتین اور مرد کرکٹرز کی نامزدگیاں سامنے آگئیں
قوانین کے مطابق 24 ماہ کی اس مخصوص مدت کے دوران عائد ہونے والے تمام ڈی میرٹ پوائنٹس آپس میں جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اگر اس دوران کسی بھی کھلاڑی کے پوائنٹس کی مجموعی تعداد 4 تک پہنچ جائے تو اس پر ایک ٹیسٹ، 2 ون ڈے یا 2 ٹی 20 بین الاقوامی میچوں کی پابندی عائد کر دی جاتی ہے یہی وجہ ہے کہ کرکٹ بورڈز اور کھلاڑی اس مدت کے دوران ہر نئے پوائنٹ کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔














