زیارت کراس حملہ: ٹی ٹی پی نے کارروائی کی، ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟ باہمی تعاون پر سوالات اٹھ گئے

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے علاقے زیارت کراس میں فرنٹیئر کور کے اہلکاروں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے قبول کیے جانے کے بعد حملے کے پس منظر اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے ممکنہ تعلق کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

ایک سیکیورٹی تجزیے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیارت کراس میں فرنٹیئر کور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی کارروائی ٹی ٹی پی نے کی، تاہم اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے قبول کی۔ تجزیے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر حملہ ٹی ٹی پی کی جانب سے کیا گیا تھا تو اس کی ذمہ داری بی ایل اے نے کیوں قبول کی؟

تجزیے کے مطابق اس کی ایک ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ ٹی ٹی اے یا افغان طالبان حکومت سے وابستہ حلقے نہیں چاہتے کہ ٹی ٹی پی براہِ راست ایسے حملوں کی ذمہ داری قبول کرے، کیونکہ اس سے پاکستان کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور کارروائی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کالعدم بی ایل اے کی دہشتگردانہ حکمت عملی، غیر ملکی سہولت کاری اور ناکامیوں کا پردہ چاک

تجزیے میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے درمیان مبینہ روابط کو بھی موضوع بنایا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان بعض سطحوں پر آپریشنل رابطہ اور تعاون موجود ہے اور بعض حملوں میں ایک دوسرے کو معلومات، لاجسٹک معاونت اور دیگر سہولتیں فراہم کیے جانے کے امکانات ہیں۔

تجزیے میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں گروہوں نے اپنے اپنے زیراثر علاقوں میں ایک دوسرے کے ارکان کو سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ حالیہ عرصے میں ٹی ٹی پی کی جانب سے بی ایل اے سے وابستہ جنگجوؤں تک اپنے نظریاتی پیغام کو پہنچانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ ایک ذریعے کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ بی ایل اے کے ایک کیمپ میں ٹی ٹی پی سے وابستہ جنگجوؤں نے نماز کی امامت کی۔

تجزیے میں مغربی حکومتوں کی پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض ممالک بی ایل اے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت دہشتگرد تنظیم قرار دینے کے معاملے میں اب بھی محتاط ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا کے صوبے کیوبیک میں گالیوں کی انوکھی دنیا، کبھی یہی الفاظ جیل پہنچا دیا کرتے تھے

ایل پی جی سیکٹر پر چند افراد کی اجارہ داری ختم کردی، مسابقت سے قیمتیں کم ہوں گی، علی پرویز ملک

مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، تجاوزات کے خلاف مہم جاری رہے گی، طلال چوہدری

انٹرنیٹ پر نئے صارفین کو لوٹنے کے لیے فراڈیے تیار، خود کو محفوظ کیسے رکھیں؟

پیٹرول کی قیمت میں مسلسل تیسرے روز بڑی کمی، 6 نومبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا گیا

ویڈیو

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے گئے بیوٹمز یونیورسٹی کے 51اساتذہ واپس کیوں نہیں آئے؟

عمران خان کن رہنماؤں سے ملاقات نہیں کرنا چاہتے؟ عمار مسعود اہم خبریں سامنے لے آئے

گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا میں وفاق کا تیسرا حکمنامہ، بلدیاتی انتخابات پر پابندی

کالم / تجزیہ

امریکی الیکشن جو ریفرنڈم بن گیا

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟