مصنوعی ذہانت تمام انسانوں کی ہلاکت کا سبب بن سکتی ہے، گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ریسرچر کا بھیانک انتباہ

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت (AI) سے انسانوں کے وجود کو درپیش ممکنہ خطرات پر تشویش کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ گوگل ڈیپ مائنڈ میں آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (AGI) کی سیفٹی اور الائنمنٹ پر کام کرنے والے سابق ریسرچر بلال چغتائی نے پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر اپنے پیغام میں کہا، ’میں پختہ یقین رکھتا ہوں کہ مصنوعی ذہانت ہم سب کو ہلاک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس المیے سے بچنے کے لیے ہمارے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے۔‘

بلال چغتائی، جنہوں نے جولائی 2026 میں کمپنی چھوڑی تھی، کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دیگر نامور ماہرین کی جانب سے بھی ایسے ہی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے مصنوعی ذہانت سے تمام انسانیت کے خاتمے کا 10 فیصد سے زائد امکان ہے، اینتھروپک کے ایک اور ماہر میدان میں

حال ہی میں اینتھروپک (Anthropic) کے سابق محقق جیکب کوکسن نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ دیا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے والے خود یہ مانتے ہیں کہ یہ دہائی کے اختتام تک انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔

اس بیان کی تائید کرتے ہوئے اینتھروپک کے ہی سائنسدان ایوان ہیوبنگر نے اندازہ ظاہر کیا کہ اگلے 10 سال کے اندر AI کے ہاتھوں انسانی نسل کی تباہی کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔

ان شدید خدشات کے پیشِ نظر اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو اموڈائی نے ایڈوانسڈ AI کی ترقی کی رفتار کو سست کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جس کی حمایت ایلون مسک اور اوپن AI کے سی ای او سیم آلٹمین نے بھی کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے اے آئی کے بے قابو ہونے کا خدشہ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

بلال چغتائی کا کہنا تھا کہ اس خطرے سے بچنا ممکن ہے لیکن اس کے لیے AI کمپنیوں کے درمیان جاری ‘جنونی دوڑ’ کو روک کر ہم آہنگی پیدا کرنا ہو گی۔ ان کے بقول AI کی ترقی کو اس رفتار پر لانا ہوگا جسے معاشرہ سنبھال سکے اور شدید نقصان سے پہلے ہی خطرات کا تدارک ممکن ہو۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان تمام انتباہات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ AI انڈسٹری کی جانب سے ریگولیشن اور پابندیوں کا یہ مطالبہ محض ایک ’ڈھونگ‘ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp