وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے حالیہ دورہ لاہور کو ’ٹک ٹاک ڈراما‘ قرار دیتے ہوئے پنجاب اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی گئی۔
مسلم لیگ ن کے چیف وہپ رانا محمد ارشد کے ڈیجیٹل دستخط سے جمع کرائی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے دورہ لاہور کے دوران سیاسی سرگرمیوں کو سیاسی شو میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ نامناسب رویہ وزیراعلیٰ کے منصب کے شایان شان نہیں، جبکہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پولیس وین میں بیٹھے اور بعد ازاں اغوا کیے جانے کے الزامات عائد کیے۔
یہ بھی پڑھیں:علی امین گنڈاپور اور سہیل آفریدی کی لڑائی، وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا
قرارداد میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے سیاسی پروگرام کو لاہور نے مسترد کردیا۔ اس طرز عمل کو عوام کو گمراہ کرنے اور مبینہ ’فالس فلیگ‘ بیانیہ بنانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب اسمبلی میں جمع قرارداد میں 9 مئی کے واقعات کی شدید مذمت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ 9 مئی کو جناح ہاؤس، کمانڈر ہاؤس سمیت فوجی و سرکاری تنصیبات اور قومی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔
قرارداد میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی جیسے واقعات یا دوبارہ کسی قسم کا ریاستی تصادم برداشت نہیں کیا جائے گا، جبکہ سیاسی احتجاج آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے۔
متن کے مطابق لاہور کے عوام کو دوبارہ انتشار، سڑکوں کی بندش اور ریاستی اداروں سے تصادم کی سیاست میں دھکیلنے کی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔

قرارداد میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ لاہور میں سیاسی سرگرمیوں کے بجائے اپنے صوبے کے عوام کے مسائل پر توجہ دیں اور امن و امان، تعلیم، صحت اور ترقی کے شعبوں پر توجہ مرکوز کریں۔
پنجاب حکومت کے تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر، معیشت اور عوامی فلاح کے منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کو بھی قرارداد میں قابل تحسین قرار دیا گیا ہے۔
قرارداد کے متن میں ایوان نے قائد مسلم لیگ ن نواز شریف، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار بھی کیا ہے۔














