جمہوریت کی اصل کسوٹی شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہے، شرمیلا فاروقی

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 رکن قومی اسمبلی اور سیکریٹری اطلاعات پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے عالمی یومِ جمہوریت کے موقع پر کہا ہے کہ جمہوریت کو صرف انتخابات کے انعقاد سے نہیں پرکھا جا سکتا، بلکہ حقیقی جمہوریت کی پہچان مضبوط آئینی اداروں، بنیادی حقوق کے تحفظ، جواب دہی اور عوام کی فیصلہ سازی میں بامعنی شرکت سے ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سال عالمی سطح پر انسانی حقوق اور عوام کی مؤثر شمولیت پر دیا جانے والا زور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جمہوریت کے ثمرات عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنے چاہئیں۔

ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا،’جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے پر ختم نہیں ہو جاتی۔ اسے انصاف کی منتظر عورت، تشدد اور استحصال سے تحفظ کے محتاج بچے، مساوی حقوق مانگنے والی اقلیت، مشکل سوال پوچھنے والے صحافی اور حکمرانوں سے جواب طلب کرنے والے ہر شہری کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ انسانی حقوق جمہوریت سے الگ نہیں بلکہ اس کی بنیاد ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے کم عمری کی شادی کیخلاف قانون کو چیلنج کرنے پر شرمیلا فاروقی کا مولانا فضل الرحمان کو سزا دینے کا مطالبہ

انہوں نے کہا کہ ایک مضبوط پارلیمان وہ ہے جو مؤثر قانون سازی کرے، حکومت سے جواب طلب کرے اور اختلافِ رائے کے لیے جگہ پیدا کرے۔

’جمہوریت میں سیاسی اختلاف فطری ہے۔ اختلاف کا جواب اخراج نہیں، بحث ہے؛ عدم برداشت نہیں، مکالمہ ہے۔‘

ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پاکستان کی جمہوری تاریخ عظیم جدوجہد اور قربانیوں سے عبارت ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا، جبکہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے جمہوریت کی جدوجہد میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی میراث محض یاد کرنے کے لیے نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، پارلیمان کی مضبوطی اور عوام کے حقوق کے مسلسل دفاع کا تقاضا کرتی ہے۔

انہوں نے کہا، ’جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ادارے اپنی آئینی حدود کا احترام کریں، پارلیمان مؤثر ہو، اپوزیشن کی آواز سنی جائے اور شہریوں کو یقین ہو کہ ان کی آواز اور ان کا ووٹ واقعی اہمیت رکھتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے شرمیلا فاروقی کو پارلیمنٹ لاجز کا ماحول جیل جیسا کیوں لگا؟

ڈاکٹر شرمیلا فاروقی نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی آئینی جمہوریت، سیاسی مکالمے اور ایک مساوی و شمولیتی پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا، ’پاکستان کو جمہوریت محض ایک نعرے کے طور پر نہیں چاہیے۔ ہمیں ایسی جمہوریت چاہیے جو حقوق کا تحفظ کرے، جواب دہی یقینی بنائے، عوام کو حقیقی نمائندگی دے اور ہر شہری کے وقار کی ضمانت بنے۔ یہی وہ جمہوریت ہے جس کا دفاع کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp