نواز شریف کا دورہ ناران، ’مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف کو کہوں گا‘

ہفتہ 19 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے ناران کے مسائل حل کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کو فی الفور کام شروع کرنے کی ہدایت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نواز شریف اور مریم نواز کی زیر صدارت مری میں اجلاس، اسکائی گلاس برج سمیت سیاحتی منصوبوں کی منظوری

سابق وزیر اعظم و قائد مسلم لیگ ن نواز شریف نے 16 سال بعد خیبرپختونخوا کے تفریحی مقام ناران کا دورہ کیا ہے، جہاں انہوں نے پارٹی کے مقامی عہدے داروں سے ملاقات کی اور ناران کے مسائل پر بریفنگ لی۔

اس موقعے پر مقامی عہدے دار فاروق خان نے نواز شریف سے ناران کی خستہ حال سڑکوں، عمارتوں اور سیاحت سے متعلق مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں: ناران میں سیاحوں کا غیر معمولی رش، کمرے نایاب، سیاح مہنگے اور غیر معیاری ٹین شیلٹرز میں رہنے پر مجبور

اس موقع پر مقامی عہدے داروں نے نواز شریف کو ناران کے قدرتی حسن کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر مسائل کے بارے میں بتایا۔

بعد ازاں نواز شریف اہلخانہ کے ہمراہ ناران سے بابوسر ٹاپ کی سیر کے لیے روانہ ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

الیکشن کمیشن پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار، کے پی اور اسلام آباد میں قانونی و انتظامی رکاوٹیں درپیش

پاکستان کی آبی سلامتی کے تحفظ کے لیے مؤثر سفارتکاری اور مربوط انتظام ناگزیر ہے، ماہرین

وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ختم، رابطے بحال، کیا لانگ مارچ مزید ’لانگ‘ ہونے والا ہے؟

راولپنڈی کی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر پر شوہر کا تشدد، ملزم گرفتار، جیل بھیج دیا گیا

پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور پی ٹی آئی کے خلاف شدید احتجاج: ’سہیل آفریدی کو ہٹاؤ، صوبہ بچاؤ’ مہم کا آغاز

ویڈیو

تحریک انصاف تیسری بار اقتدار میں، جنوبی وزیرستان کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم

کوئٹہ: 12 سالہ عمران خان موٹر سائیکل پر دنیا گھومنے کا خواب دیکھتا ہے

لاہور کا پاپ سنگر ’ان ڈرائیو‘ بائیک چلانے لگا مگر کیوں؟

کالم / تجزیہ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا

مذاکرات ناکام: آگے کیا ہوگا؟