افریقی ملک ایسواتینی کی حکومت کے مطابق گزشتہ ہفتے کے روز فوج کی جانب سے غلط فائرنگ کے ایک واقعے میں 2 امریکی سفارت کار زخمی ہو گئے۔
حکومتی ترجمان تھابیلے مدلولی کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی رات ملک کے شمال مشرقی دیہی علاقے میں سمگلنگ کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران پیش آیا۔ پریس کانفرنس اور جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ زخمی ہونے والے امریکی اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئی ہیں اور واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں۔
ایسواتینی حکومت نے فوری طور پر زخمی امریکی اہلکاروں کی شناخت یا وہاں ان کی موجودگی کی وجوہات ظاہر نہیں کی ہیں۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے واقعے سے آگاہی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ متاثرہ اہلکار مکمل طور پر محفوظ ہیں، تاہم انہوں نے بھی اہلکاروں کی شناخت ظاہر کرنے سے گریز کیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے مقامی حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
مقامی ذرائع ابلاغ ‘سوازی لینڈ نیوز’ نے فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ملٹری روڈ بلاک پر ایک گاڑی نے اچانک ‘یو ٹرن’ لیا۔ چیک پوسٹ پر تعینات اہلکاروں کو علم نہیں تھا کہ گاڑی میں امریکی سفارت کار سوار ہیں، جس پر انہوں نے مشتبہ گاڑی کو ناکہ توڑ کر بھاگنے والی سمجھ کر فائرنگ کر دی۔
ایسواتینی فوج کے ترجمان سینڈائل گویکو نے ایسوسی ایٹڈ پریس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ اب انتہائی حساس نوعیت اختیار کر چکا ہے اور اسے دونوں ممالک کے درمیان ایک “سفارتی معاملے” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اس لیے مزید تفصیلات عام نہیں کی جا سکتیں۔
حکومتی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس واقعے کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا جا رہا ہے اور تمام پہلوؤں کا جائز لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ایسواتینی، جنوبی افریقہ اور موزمبیق کی سرحدوں پر واقع تقریباً 13 لاکھ آبادی پر مشتمل ایک چھوٹی سی سلطنت ہے۔ اس ملک پر بادشاہ مسواتی سوم کی حکومت ہے، جو تمام سیاسی اختیارات کے مالک ہیں اور انہیں افریقہ کا آخری مطلق العنان حکمران (مطلق العنان بادشاہ) بھی مانا جاتا ہے۔














