مسلم لیگ (ن) کی رکن قومی اسمبلی اور پارلیمانی سیکرٹری برائے اکنامک ڈویژن زیب جعفر نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ متاثر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف عوام کو ریلیف دینے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں عوام کو اپنے طرزِ زندگی اور ایندھن کے استعمال میں احتیاط کرنا ہوگی۔ پاکستان اس وقت سیاسی محاذ آرائی اور احتجاج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے زیب جعفر نے کہا کہ جب تک ایران اور امریکا کے درمیان تنازع ختم نہیں ہوتا، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔ موجودہ صورتحال میں عوام کو چاہیے کہ وہ ایندھن کی کھپت کم کریں اور جہاں ممکن ہو پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تاکہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جبکہ چھوٹے ٹرانسپورٹرز، موٹر سائیکل سواروں اور متوسط طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بھی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ مشکل حالات میں عام آدمی پر کم سے کم بوجھ پڑے۔
یہ بھی پڑھیے غیرضروری اخراجات ختم اور سرکاری گاڑیاں 1300 سی سی تک لائی جائیں، امیر جماعت اسلامی
زیب جعفر کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے دوران حکومت نے سرکاری مشینری کے اخراجات اور سرکاری افسران کو دستیاب ایندھن سمیت مختلف شعبوں میں اخراجات کم کیے تھے۔ موجودہ صورتحال میں بھی حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میٹرو بس سمیت مختلف پبلک ٹرانسپورٹ سروسز موجود ہیں۔ اگر کچھ عرصے کے لیے لوگ اپنی ذاتی گاڑیوں کے بجائے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو اس سے ایندھن کی بچت کے ساتھ گھریلو اخراجات بھی کم ہو سکتے ہیں۔
پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال کے باوجود پاکستان نے اپنا کردار مثبت انداز میں ادا کیا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا گیا۔ امید ہے کہ آنے والے وقت میں حالات میں بہتری آئے گی۔
کام کے دنوں میں ممکنہ کمی یا گھر سے کام کرنے سے متعلق سوال پر زیب جعفر نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ کابینہ کی منظوری کے بعد ہی کیا جا سکے گا، تاہم گھر سے کام یا جمعہ کے روز چھٹی سمیت مختلف تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومتی معاملات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ اتحادی جماعتوں کو اہمیت اور عزت دی ہے۔ حکومت بننے کے وقت بھی پیپلز پارٹی کو دعوت دی گئی اور اہم فیصلوں میں اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو پارٹی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے بارے میں سوچنا چاہیے۔ ملک اس وقت عالمی سطح پر پیدا ہونے والے بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور ایسے حالات میں سیاسی عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں۔
یہ بھی پڑھیے پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں، ملک میں ’اسمارٹ لاک ڈاؤن‘ کی تجویز زیر غور
زیب جعفر نے کہا کہ جماعت اسلامی یا پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت کو اس وقت کوئی خطرہ نہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے مشکل معاشی حالات میں حکومت سنبھالی اور معیشت کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے۔ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے اور پاکستان کو عالمی سطح پر دوبارہ نمایاں کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پیپلز پارٹی کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے اور تمام معاملات باہمی مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پاکستان اس وقت عالمی جنگ کے اثرات کے ساتھ ساتھ اندرونی سیاسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
زیب جعفر نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال میں احتجاج، لانگ مارچ اور سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قومی یکجہتی اور استحکام کو ترجیح دی جائے۔ تمام سیاسی قوتوں کو یہ سوچنا ہوگا کہ موجودہ حالات میں احتجاج سے معیشت یا امن و امان بہتر ہوگا یا مسائل میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں استحکام ہوگا تو سرمایہ کاری آئے گی، تجارت بڑھے گی اور ملکی معیشت کو آگے بڑھنے کا موقع ملے گا۔ موجودہ صورتحال میں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے ملک اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔













