پیٹرول ریلیف اسکیم مسترد: پیٹرولیم ڈیلرز نے حکومتی طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے

بدھ 16 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے متعارف کرائی گئی ریلیف اسکیم کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ نظام کے تحت عوام کو پیٹرول فراہم کرنے سے انکار کردیا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین انوار کمال نے کہاکہ ریلیف اسکیم مرتب کرتے وقت پیٹرولیم ڈیلرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جبکہ موجودہ طریقہ کار پر عملی طور پر عملدرآمد کرنا مشکل ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیاکہ ریلیف کا فائدہ عوام تک براہ راست اور آسان طریقے سے پہنچایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کے باعث پہلے ہی ڈیلرز کا سرمایہ شدید متاثر ہے، جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے اربوں روپے کے واجبات بھی تاحال زیر التوا ہیں۔

انوار کمال نے واضح کیاکہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ پیٹرول پمپس کے ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں۔ ڈیلرز اپنے مارجن میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں اور موجودہ حکومتی طریقہ کار کے تحت پیٹرول فراہم نہیں کریں گے۔

وائس چیئرمین پی پی ڈی اے نے سوال اٹھایا کہ سستے پیٹرول کی مد میں دی جانے والی رقم حکومت ڈیلرز کو کس طریقہ کار کے تحت ادا کرے گی؟

انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن گزشتہ تین روز سے حکومت سے رابطے میں ہے، تاہم اب تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے مستحق طبقے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 100 روپے کمی کا اعلان کیا ہے، اور اس کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔

فیول اسکیم کے تحت موٹر سائیکل اور 800 سی سی تک گاڑی استعمال کرنے والے افراد کو پیٹرول پر سبسڈی دی جائےگی۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ 16 ستمبر کی رات 11 بجکر 59 منٹ پر یہ اسکیم پورے ملک میں لاگو ہو جائےگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp