خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں جمعے کے روز پولیس کمپلیکس میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں شہدا کی تعداد 21 تک جا پہنچی ہے، جن میں 15پولیس اہلکار شامل ہیں، جبکہ 103 افراد زخمی ہوئے، جن میں 73 پولیس اہلکار اور 30 شہری شامل ہیں۔ کوہاٹ پولیس اور محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کردی۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی معلومات کے تحت بارود سے بھری گاڑی مسجد کی دیوار سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔ پولیس کے مطابق دھماکا خودکش حملہ تھا، جس کے فوراً بعد 5 مسلح حملہ آور جائے وقوعہ میں داخل ہوئے اور فائرنگ شروع کردی۔
یہ بھی پڑھیں:بلوچستان: بارودی گاڑی کی تیاری کے دوران دھماکا، 8 دہشتگرد ہلاک، 3 شہری جاں بحق
ریسکیو ترجمان کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن کو مؤثر بنانے کے لیے کرک اور ہنگو سے اضافی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ مجموعی طور پر 20 ایمبولینسز، ریسکیو گاڑیوں اور ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد اہلکار سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیا ہے جبکہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ دھماکے کے بعد شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ حملے میں ملوث مسلح افراد اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔













