برآمد کنندگان کے لیے قواعد آسان بنانے کی تیاری، ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم میں اہم تبدیلیوں پر غور

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ حکومت برآمدی شعبے کے فروغ اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے برآمدات سے وابستہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر زور دیا کہ وہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔

وزیر مملکت نے ان خیالات کا اظہار فنانس ڈویژن میں ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کا جائزہ لینے کے لیے قائم وزیراعظم کی کمیٹی کے مشاورتی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

مزید پڑھیں: کیا پاکستان 100 ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پورا کر سکتا ہے؟

اجلاس میں سیکریٹری تجارت، وزارت خزانہ اور وزارت تجارت کے اسپیشل سیکریٹریز، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے اعلیٰ حکام، آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما)، پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ٹی ای اے) اور سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ نمایاں برآمد کنندگان ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کے قواعد میں آسانیاں پیدا کرنے کی ہدایت

اجلاس کے دوران ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کو مزید آسان اور مؤثر بنانے اور اسے تجارت کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ ایکسپورٹ فیسیلیٹیشن اسکیم کی کسی بھی کیٹیگری میں شمولیت کے لیے مقرر کردہ اہلیت کے معیار کا اطلاق بلاامتیاز تمام درخواست گزاروں پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت طے شدہ معیاری طریقہ کار (ایس او پیز) میں کسی کو بھی استثنیٰ نہیں دیا جائے گا۔

وزیر مملکت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کے لیے کیپٹل گڈز اور پیداواری مشینری کی درآمد سے متعلق قواعد و ضوابط کو مزید واضح اور آسان بنایا جائے تاکہ برآمدی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کی جاسکے۔

برآمدی اخراجات میں کمی اور مقامی صنعت کے فروغ پر غور

اجلاس میں ایسی مجوزہ ترامیم کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جن کا مقصد برآمدات سے متعلق اضافی اخراجات کم کرنا، مقامی سطح پر مصنوعات کی قدر میں اضافے کی حوصلہ افزائی اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہے۔

بلال اظہر کیانی نے کہا کہ حکومت برآمد کنندگان کے لیے موجودہ اسکیموں کا جائزہ لینے کے عزم پر قائم ہے تاکہ انہیں برآمدی شعبے کی ضروریات کے مطابق ڈھالا جاسکے اور ان سے زیادہ سے زیادہ مؤثر نتائج حاصل ہوں۔

مزید پڑھیں: پاکستان روس کی سی فوڈ مارکیٹ پہنچ گیا، 30 کروڑ ڈالر کی ابتدائی برآمدات کا امکان روشن

انہوں نے برآمدات میں اضافے اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں اور کاروباری برادری کے درمیان مسلسل مشاورت کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

اجلاس کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ برآمدات میں اضافے اور قومی معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں اور تجارتی تنظیموں کے ساتھ فعال مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp