سپریم کورٹ : قابل دست اندازی جرم کی اطلاع پر اندراج مقدمہ میں تاخیر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت

جمعہ 18 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ نے قابل دست اندازی جرم کی اطلاع ملتے ہی فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے میں تاخیر کرنے والے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اندراج مقدمہ میں تاخیر کو صرف بے قاعدگی کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے، جبکہ تاخیر میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: گوجر خان میں سر عام قتل کے ملزمان تاحال  آزاد، بیوہ کی ارباب اختیار سے فراہمی انصاف کی اپیل

عدالت نے کہا کہ مقدمہ درج کرنے میں تاخیر پر ٹرائل کورٹ نوٹس لے کر قانونی کارروائی کرسکتی ہے۔ دستاویزات سے اندراج مقدمہ میں تاخیر ثابت ہونے پر معاملہ محکمانہ کارروائی کے لیے آئی جی کو بھی بھیجا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقدمات کے اندراج میں تاخیر پر آئی جی، ایس پی انویسٹیگیشن اور ڈی پی او کے خلاف بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔

عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو یکم جنوری 2025 سے اب تک کے قتل کے مقدمات کی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ایسے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں جن میں 24 گھنٹے سے زائد کی تاخیر سے مقدمہ درج ہوا ہو۔

یہ بھی پڑھیں: مقدمے سے بریت ملازمت پر بحالی کا جواز نہیں، سپریم کورٹ میں پولیس اہلکار کی بحالی کی درخواست مسترد

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ ضلع کے حساب سے مقدمات کی تفصیلات 2 ماہ کے اندر فراہم کی جائیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ آج کے بعد سپریم کورٹ کے محمد بخش کیس میں دیے گئے احکامات پر عمل نہ کرنے والے اعلیٰ افسران کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔

سپریم کورٹ نے محمد بخش کیس کے فیصلے کا سندھی ترجمہ کرکے ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ مجرم علی رضا کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سنایا۔ علی رضا پر 2012 میں دادو میں ایک شخص کے قتل کا الزام تھا، تاہم قتل کے واقعے کا معلوم ہونے کے باوجود پولیس نے مقدمہ تاخیر سے درج کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: شہری کو اغوا کر کے 28 لاکھ تاوان وصول کرنے پر پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج

ٹرائل کورٹ نے مجرم علی رضا کو عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی، جسے ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا تھا۔

سپریم کورٹ کا 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp