بالی ووڈ اداکارہ کاجول نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے درمیان انسانی تخلیقی صلاحیت کو مشینوں سے منفرد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت بہت اچھا کام کرسکتی ہے لیکن انسانی تخلیق میں موجود خاص عنصر کی نقل نہیں کرسکتی۔
کاجول نے مصنوعی ذہانت اور انسانی تخلیقی صلاحیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشین کے خیالات پہلے سے موجود معلومات پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ انسان نئے جذبات، احساسات اور منفرد خیالات تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے پوری انسانیت کے خاتمے کا خدشہ، سابق گوگل ڈیپ مائنڈ محقق کا انتباہ
اداکارہ کا کہنا تھا کہ اگر مصنوعی ذہانت کو 5 سطروں پر مشتمل نظم، ہائیکو یا اردو نظم لکھنے کی ہدایت دی جائے تو وہ یہ کام بہت اچھے انداز میں کرسکتی ہے، تاہم وہ اسے شاندار قرار نہیں دیں گی۔
View this post on Instagram
کاجول نے کہا کہ اگر یہی کام کوئی بہت اچھا مصنف یا ادیب کرے تو اس کی تحریر میں ایسی چیز موجود ہوگی جو مشین میں نہیں ہوتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشین کے خیالات پہلے سے تخلیق کیے جاچکے ہوتے ہیں، جیسے کسی کتب خانے میں موجود مواد، لیکن انسان چیزوں کو منفرد انداز میں دیکھنے اور ایک مختلف نقطہ نظر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ
کاجول کا کہنا تھا کہ انسان ایسے جذبات اور احساسات بھی تخلیق کرسکتا ہے جو شاید اس سے پہلے کبھی وجود میں ہی نہ آئے ہوں۔
ان کا مؤقف اس وسیع خیال کی عکاسی کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی چاہے کتنی ہی ترقی کرلے، کہانی سنانے کے بنیادی حصے میں شامل انسانی جذبات، احساسات اور انسانی نقطہ نظر کو مشینوں کے ذریعے نقل نہیں کیا جاسکتا۔














