بھارت کے شہر ممبئی میں غزہ کے بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پتنگ بازی مہم میں شرکت کرنے والے 3 فلسطین نواز کارکنوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا، جبکہ ایک خاتون رضاکار کے گھر کی مبینہ طور پر بغیر وارنٹ تلاشی لینے کا معاملہ بھی سامنے آیا ہے۔
انڈین پیپلز اِن سالیڈیریٹی ود فلسطین (آئی پی ایس پی) کے مطابق کارکنوں نے حال ہی میں غزہ کے بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے منعقدہ بین الاقوامی مہم ’گلوبل غزہ کائٹ ویک اینڈ‘ میں شرکت کی تھی۔ گروپ کا کہنا ہے کہ سادہ لباس میں پولیس اہلکار ممبئی میں آئی پی ایس پی کی رضاکار ہرشادہ کے گھر میں داخل ہوئے، انہیں ہراساں کیا اور حراست میں لے لیا، جبکہ بعد میں وردی میں ملبوس اہلکار بھی وہاں پہنچے اور مبینہ طور پر بغیر وارنٹ، تحریری نوٹس یا کسی قانونی دستاویز کے گھر کی تلاشی لی۔
یہ بھی پڑھیے بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
آئی پی ایس پی کے مطابق پولیس نے خاتون رضاکار کی بعض اشیا بھی قبضے میں لے لیں، جبکہ غزہ سے اظہار یکجہتی کی پتنگ بازی مہم میں شریک 2 دیگر رضاکاروں کو بھی حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی گئی۔
گروپ کا کہنا ہے کہ تلاشی شروع ہونے کے بعد بھی پولیس اہلکار 9 گھنٹے سے زائد عرصے تک ہرشادہ کی رہائش گاہ پر موجود رہے۔ آئی پی ایس پی نے کارروائی کو جمہوری حقوق، شہری آزادیوں اور رازداری کے حق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔
گروپ نے الزام عائد کیا کہ فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرنے والوں کو خوفزدہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اس کارروائی کے باوجود وہ اپنی مہم جاری رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیے بھارتی صارفین فلسطین مخالف غلط معلومات پھیلانے میں کیوں سب سے آگے ہیں؟
آئی پی ایس پی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی فلسطین پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک جانب نئی دہلی عالمی سطح پر فلسطینیوں کی آزادی اور انسانی ہمدردی کی حمایت کا اظہار کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب ملک میں فلسطین کے حامی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
آئی پی ایس پی نے ممبئی پولیس کے مبینہ غیر قانونی اقدام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے شہریوں اور صحافیوں سے اپیل کی کہ وہ فلسطین سے اظہار یکجہتی کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کے لیے پولیس پر دباؤ ڈالیں۔














