گوگل ڈیپ مائنڈ کے سابق ملازم اور مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے محقق بلال چغتائی نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں انسانیت کو ختم کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس خطرے سے بچنے کے لیے ممکنہ طور پر وقت تیزی سے کم ہو رہا ہے۔
بلال چغتائی نے پیر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے حال ہی میں گوگل ڈیپ مائنڈ سے استعفیٰ دیا ہے، جہاں وہ مصنوعی عمومی ذہانت کی حفاظت اور ’الائنمنٹ‘ سے متعلق تحقیق پر کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کی دوڑ انسانیت کو تباہی کے قریب لے جا رہی ہے، اینتھروپک کے محقق مستعفی
’مجھے سنجیدگی سے یقین ہے کہ اے آئی ہم سب کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور ممکن ہے کہ اس انجام سے بچنے کے لیے ہمارے پاس وقت کم ہوتا جا رہا ہو۔‘
اے آئی کے ممکنہ تباہ کن اثرات کے حوالے سے ماہرین کی تشویش میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے۔
I recently resigned from Google DeepMind, where I worked on AGI safety and alignment research. At Google, I witnessed AI development first hand. I too am extremely concerned by the default trajectory of this technology. I earnestly believe that AI has the potential to kill us…
— bilal 🔶 (@bilalchughtai_) September 14, 2026
گزشتہ ہفتے اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے استعفیٰ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اے آئی تیار کرنے والے بعض ماہرین سنجیدگی سے سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک پوری انسانیت کو ختم کر سکتی ہے۔
اینتھروپک کے سائنس دان ایون ہوبنگر نے بھی کوکسن کے خدشات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک دہائی کے دوران اے آئی کے ہاتھوں پوری انسانیت کے خاتمے کا امکان 10 فیصد سے زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: طاقتور اے آئی ماڈلز سیکیورٹی کے لیے نیا خطرہ، حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری آسان ہونے کا خدشہ
بلال چغتائی نے گوگل ڈیپ مائنڈ میں بطور ریسرچ انجینئر کام کیا اور مصنوعی عمومی ذہانت کی حفاظت سے متعلق تحقیقی مقالوں کے شریک مصنف بھی رہے۔
حالیہ خدشات کے تناظر میں اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے بھی ہفتے کے اختتام پر جدید اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے پر زور دیا۔
ان کے مؤقف کو اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹو سیم آلٹ مین کی جانب سے بھی غیر معمولی حمایت حاصل ہوئی، جس کے بعد اے آئی کے ممکنہ خطرات اور ’ڈومر ازم‘ کے حوالے سے نئی بحث چھڑ گئی۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے کن ملازمتوں کو سب سے زیادہ خطرہ؟ نئی تحقیق نے خبردار کردیا
بلال چغتائی کا کہنا تھا کہ اے آئی کی محفوظ ترقی ممکن ہے، تاہم اس کے لیے مختلف کمپنیوں کے درمیان تعاون اور رابطہ ضروری ہوگا تاکہ ’اے آئی کمپنیوں کے درمیان جاری جنونی دوڑ‘ سے بچا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی کی ترقی کی رفتار کو اتنا رکھا جانا چاہیے جسے معاشرہ سنبھال سکے اور اس دوران سامنے آنے والے خطرات کا تدارک انتہائی نقصان پہنچنے سے قبل کیا جا سکے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے خطرات سے متعلق انتباہات کو مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا ہے کہ اے آئی صنعت کی جانب سے ضابطہ کاری کا مطالبہ ایک ’ڈھونگ‘ ہے۔














