مصنوعی ذہانت یورپ کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرسکتی ہے، تاہم اس کے نتیجے میں معاشی عدم مساوات بڑھنے، بجلی کے نظام پر دباؤ پڑنے اور غیرملکی ٹیکنالوجی پر انحصار میں اضافے کا خطرہ بھی ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے یورپی یونین کے وزرائے خزانہ کے غیر رسمی اجلاس کے لیے تیار کیے گئے پس منظر کے نوٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت آئندہ 5 برسوں کے دوران یورپ کی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 1 فیصد اضافہ کرسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ
آئی ایم ایف نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد اور نقصانات یورپی یونین کے 27 رکن ممالک، مختلف خطوں اور کارکنوں میں یکساں طور پر تقسیم ہونے کا امکان نہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترقی یافتہ یورپی معیشتوں میں تقریباً 60 فیصد کارکن ایسے شعبوں سے وابستہ ہیں جو مصنوعی ذہانت سے نمایاں طور پر متاثر ہوسکتے ہیں۔
ان میں سے بعض کارکن مصنوعی ذہانت کے آلات کے ذریعے زیادہ پیداواری ہوسکتے ہیں، جبکہ بعض کو ملازمتوں سے محرومی کا سامنا ہوسکتا ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جہاں مصنوعی ذہانت انسانی محنت کا متبادل بننے کا زیادہ امکان رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی سے کن ملازمتوں کو سب سے زیادہ خطرہ؟ نئی تحقیق نے خبردار کردیا
آئی ایم ایف نے کہا کہ یورپی یونین کی مشترکہ منڈی کو مکمل کرنے سے مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے فوائد کو 27 رکنی بلاک میں زیادہ یکساں انداز میں پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں یورپ کے توانائی کے نظام پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات کی بھی نشاندہی کی گئی۔ آئی ایم ایف کے مطابق یورپ کے ڈیٹا سینٹرز پہلے ہی براعظم کی تقریباً 3 فیصد بجلی استعمال کررہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافے کے ساتھ بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
فرینکفرٹ، لندن، ایمسٹرڈیم، پیرس اور ڈبلن جیسے بڑے ٹیکنالوجی مراکز میں ڈیٹا سینٹرز کے کلسٹرز پہلے ہی مقامی بجلی کے نظام پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی بھرتی کے نظام سے 40 سال سے زائد عمر کی خواتین متاثر؟ نوکری کی تلاش میں نئے چیلنجز سامنے آ گئے
آئی ایم ایف نے تجویز دی کہ اس دباؤ سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین سرحد پار بجلی کے ترسیلی نظام میں سرمایہ کاری کرے اور یورپی توانائی کی منڈی میں مزید انضمام پیدا کرے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں یورپ ایک اور اسٹریٹجک انحصار کا شکار ہوسکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تیاری میں امریکا اور چین کو برتری حاصل ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق یورپ کو غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار سے بچنے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں نمایاں سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔
آئی ایم ایف نے مزید کہا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد یورپی یونین کے اندر اور مختلف ممالک کے درمیان بھی یکساں تقسیم ہونے کا امکان نہیں، جبکہ زیادہ ترقی یافتہ معیشتوں کو اس ٹیکنالوجی سے زیادہ فائدہ ہونے کی توقع ہے کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے زیادہ بہتر طور پر تیار ہیں اور اس سے زیادہ متاثر بھی ہوں گی۔













