امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مڈٹرم انتخابات سے قبل اپنی حکومت کی 25 بڑی کامیابیاں گنواتے ہوئے امیگریشن، خارجہ پالیسی اور معیشت سے متعلق مختلف اقدامات کو اپنی کامیابیوں میں شامل کیا ہے۔
ٹرمپ نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے امریکا کو تاریخ کی سب سے محفوظ سرحد فراہم کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ری پبلکن جیتے تو ہر بالغ امریکی کو 5 ہزار ڈالر ملیں گے، ٹرمپ کا بڑا اعلان
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 16 ماہ کے دوران ایک بھی غیر قانونی تارک وطن کو امریکا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ ان کی حکومت نے ‘خطرناک مقامات’ سے پناہ گزینوں کی امریکا آمد بھی کم کردی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیاں کی ہیں، جن کے دوران بڑے پیمانے پر ملک بدری کی گئی جبکہ ایسے افراد کو تیسرے ممالک بھی بھیجا گیا جنہیں امریکا قانون کے تحت ان کے آبائی ممالک واپس نہیں بھیج سکتا تھا۔
ٹرمپ نے اپنی کامیابیوں میں یہ دعویٰ بھی شامل کیا کہ امریکا نے ایران کی جوہری افزودگی کی صلاحیت ‘مکمل طور پر تباہ’ کردی ہے تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کرسکے۔ یہ فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے لیے ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی وجوہات میں سے ایک تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کی تصویر والا ایک ڈالر کا سکہ جاری، امریکی تاریخ میں نیا باب
رپورٹ کے مطابق ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں نے عالمی معیشت کو متاثر کیا اور مشرق وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل دیا، جس کے باعث ٹرمپ کو اس وعدے کے برعکس ایک مشکل صورت حال کا سامنا ہے جس میں انہوں نے امریکا کو مزید بیرونی جنگوں میں شامل نہ کرنے کی بات کی تھی۔
ٹرمپ نے اپنی حکومت کی کامیابیوں میں امریکا کے تجارتی شراکت داروں پر عائد کیے گئے بھاری محصولات کو بھی نمایاں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محصولات ‘امریکی مینوفیکچرنگ واپس لانے’ کے لیے عائد کیے گئے ہیں۔
خبر کے مطابق ٹرمپ نے یہ تفصیلات ایسے وقت میں پیش کی ہیں جب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات قریب ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں میں ان کی مقبولیت میں کمی ظاہر کی جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران معاہدے پر جلد بازی نہیں کریں گے، مڈٹرم انتخابات کی پروا نہیں، صدر ٹرمپ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن سمیت مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو متاثر کیا ہے، جبکہ بعض رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ریپبلکن پارٹی ایوان نمائندگان کا کنٹرول کھو سکتی ہے اور سینیٹ میں بھی اسے مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔














