روس میں جاری 3 روزہ پارلیمانی انتخابات کے دوران دارالحکومت ماسکو کے آن لائن ووٹنگ سسٹم پر رات گئے شدید سائبر حملہ کیا گیا ہے۔ تاہم، روس کے مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ نے صورتحال کو مکمل طور پر قابو میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام سائبر حملوں کو کامیابی سے ناکام بنا دیا گیا ہے اور الیکٹرانک ووٹنگ کا عمل بغیر کسی تعطل کے جاری ہے۔
روسی خبر رساں ادارے ‘انٹرفیکس’ کے مطابق، مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے بتایا کہ دارالحکومت ماسکو میں آن لائن ووٹنگ کے نظام کو رات کے وقت ایک شدید سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم صورتحال مکمل طور پر سیکیورٹی اداروں کے کنٹرول میں ہے۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق، الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا کا کہنا تھا کہ ووٹنگ سسٹم پر سائبر حملوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے، لیکن تمام حملوں کو مؤثر طریقے سے ناکام بنایا جا رہا ہے اور انتخابی نظام بالکل محفوظ ہے۔
واضح رہے کہ روس میں 3 روزہ پارلیمانی انتخابات کے لیے پولنگ کا آغاز جمعے کے روز سے ہوا ہے، جس میں شہری روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ آن لائن ووٹنگ کے ذریعے بھی اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ روسی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں (State Duma) کی کل 450 نشستیں ہیں۔ ان میں سے 225 نشستوں پر متناسب نمائندگی (Proportional Representation) کے تحت سیاسی جماعتوں کی فہرستوں پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں، جبکہ باقی 225 نشستوں پر سنگل ممبر حلقوں (Single-member constituencies) سے براہ راست امیدوار منتخب ہوتے ہیں۔
ان انتخابات میں 14 رجسٹرڈ سیاسی جماعتیں حصہ لے رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں امیدوار (حزبِ اقتدار، تسلیم شدہ اپوزیشن اور آزاد امیدواروں کی شکل میں) میدان میں ہیں۔ کسی بھی جماعت کو ایوان میں جگہ بنانے کے لیے کم از کم 5 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔
میدان میں موجود اہم سیاسی جماعتیں
روسی سیاست میں جماعتوں کو بنیادی طور پر ‘سسٹم اپوزیشن’ (جو کریملن کی بنیادی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہیں) اور دیگر غیر رجسٹرڈ یا سخت مخالف گروہوں میں دیکھا جاتا ہے۔ اہم جماعتیں درج ذیل ہیں:
یونائیٹڈ رشیا: یہ روس کی سب سے بڑی اور حکمران جماعت ہے، جسے صدر ولادیمیر پیوٹن کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن: یہ ملک کی دوسری بڑی سیاسی قوت ہے جو روایتی طور پر کمیونسٹ نظریات اور سماجی بہبود کی بات کرتی ہے۔
لبرل ڈیموکریٹک پارٹی آف رشیا: قوم پرست نظریات کی حامل جماعت جو پارلیمنٹ میں نمایاں وجود رکھتی ہے۔
اے جسٹ رشیا – فار ٹروتھ: یہ ایک مرکز سے بائیں بازو کی سوشلسٹ / قوم پرست جماعت ہے جو اکثر حکومتی پالیسیوں کی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔
نیو پیپل : ایک نسبتاً نئی اور کاروباری طبقے و نوجوانوں کی نمائندہ جماعت۔
کس جماعت کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں؟
تمام تر سیاسی تجزیوں اور سروے کے مطابق ‘یونائیٹڈ رشیا’ کے جیتنے اور پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں۔
یونائیٹڈ رشیا کو انتظامی مشینری، قومی میڈیا کی وسیع کوریج اور صدر پیوٹن کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اگرچہ معاشی چیلنجز اور مہنگائی کے باعث اس کی مقبولیت میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے، لیکن سنگل ممبر حلقوں اور ریاستی سطح پر اس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ اسے واضح برتری فراہم کرتا ہے۔
کمیونسٹ پارٹی (KPRF) اور LDPR کے دوسری اور تیسری بڑی جماعتوں کے طور پر سامنے آنے کی توقع ہوتی ہے، لیکن وہ اقتدار کی تبدیلی کے بجائے پارلیمنٹ میں کنٹرولڈ اپوزیشن کا کردار ہی ادا کرتی ہیں۔













