وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال سب کے سامنے ہے، گزشتہ چند روز میں دہشتگردی کے واقعات میں کیپٹن، جوان اور پولیس اہلکار شہید ہوئے، جو پاکستان کے شہدا ہیں اور سب کو ان کے جنازوں میں شرکت کرنی چاہیے۔
لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں شہدا کے جنازوں میں صوبائی حکومت کا کوئی رکن شریک نہیں ہوا، یہ بے حسی ہے۔ سیاسی اختلافات جتنے مرضی ہوں، انہیں اس انتہا تک نہیں لے جانا چاہیے، صوبے کی صورتحال پورا پاکستان دیکھ رہا ہے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد کو ’سومنات‘ بنانے کا دعویٰ کرنے والا 24 گھنٹے گزرنے سے پہلے ہی بھاگ نکلا، خواجہ آصف
وزیر داخلہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا سے اسلام آباد پر دھاوا بولنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، جو بھی اسلام آباد پر دھاوا بولنے کی کوشش کرے گا اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ابھی بھی وقت ہے، بند گلی میں نہ جائیں، ایسے طرزعمل سے اپنا اور اپنے لوگوں کا نقصان نہ کرائیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ لانگ مارچ کی صورت میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات پر من و عن عمل ہوگا اور جو بھی قانونی راستہ ہوگا استعمال کیا جائے گا۔ حکومت اپنی ذمہ داری پوری کرے گی، کسی قسم کا سمجھوتا نہیں ہوگا۔ اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ لانگ مارچ آئے اور 10 یا 20 روز تک ملک بند رہے، حکومت اس بار مستقل لائحہ عمل بنائے گی۔
دھرنے کے حوالے سے ہمارے پاس جو بھی قانونی آپشنز موجود ہوں گے، ہم وزارتِ قانون سے مشاورت کریں گے اور اس کے بعد وزیراعظم حتمی فیصلہ کریں گے۔ لیکن اس بار ایسا نہیں ہوگا کہ کوئی اسلام آباد آئے، دھرنا دے اور ملک 10 یا 20 دن کے لیے بند ہو جائے۔ ایسا ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اور… pic.twitter.com/95QjZtGtdh
— WE News (@WENewsPk) September 21, 2026
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت میں اکثریت لانگ مارچ کی حامی نہیں، لانگ مارچ کرنے والوں کو خود بھی معلوم نہیں کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ اوچھے ہتھکنڈوں اور بڑھکوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، حکومت قانون کے مطابق چلے گی، کسی کے کہنے پر نہیں۔
بانی پی ٹی آئی کے اسپتال میں چیک اپ کے حوالے سے محسن نقوی نے کہا کہ چیک اپ کی سہولت پہلے ہی فراہم کی جاچکی ہے اور رات کو بھی ان کا چیک اپ ہوا ہے۔ علاج اور چیک اپ کے لیے قانون کے مطابق ہر ممکن سہولت فراہم کی جائے گی۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد کو سومنات بنانے کی دھمکیاں ہرگز قبول نہیں، طارق فضل چوہدری
وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان جب تک دہشتگردوں کو نہیں روکے گا، حالات معمول پر نہیں آسکتے۔ پیٹرولیم مصنوعات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ خطے اور عالمی منڈی کی صورتحال کے باعث قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے، دنیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا ہو رہی ہے تاہم پاکستان میں سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ وزیراعظم کی بھرپور کوشش ہے کہ پیٹرول کی قیمت نیچے لائی جائے، حکومت قیمت کم کرنے کے لیے دیگر راستے بھی تلاش کر رہی ہے۔ نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ معاملہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور وہ پُرامید ہیں کہ نئے صوبے ضرور بنیں گے، تاہم نئے انتظامی یونٹس عوام کی منشا سے ہی بنیں گے۔













