وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کو امن و امان اور ترقیاتی فنڈز کے استعمال کا حساب دینا ہوگا۔
کوہاٹ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ کوہاٹ واقعے کے وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کہاں تھے، دہشتگردی کے واقعات پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ افسوسناک ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کے لانگ مارچ منصوبے میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ
انہوں نے کہاکہ پاک فوج نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپریشن کرکے انہیں جہنم واصل کیا، جبکہ پاک فوج کی قربانیوں سے دہشت گردی کے خاتمے کی امید مزید پیدا ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیاں قابل تحسین ہیں اور خیبرپختونخوا کے عوام پاکستان سے محبت کرنے والے غیور اور بہادر لوگ ہیں۔
زخمی جوانوں کو خراج تحسین، دہشت گردی کے خاتمے کا عزم
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ دھرتی کے بہادر جوانوں نے ملکی دفاع کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جبکہ سی ایم ایچ میں زیر علاج زخمی جوانوں کا جذبہ دیدنی ہے۔
انہوں نے زخمی جوانوں کی عزم و ہمت کو بھرپور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ زخمی اہلکار وطن کے دفاع کے لیے خون کے آخری قطرے تک لڑنے کے لیے تیار ہیں۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ دہشتگرد بزدل ہیں جو چھپ کر وار کرتے ہیں، لیکن قوم انہیں شکست دے گی۔ چھٹی پر موجود پولیس اہلکاروں کا ڈیوٹی پر واپس آکر دہشت گردوں سے لڑنا قابل فخر ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے پوری قوم اور سیکیورٹی ادارے متحد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو قوم شہادت پر فخر کرتی ہو، اسے شکست نہیں دی جا سکتی۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ پاک فوج نے کوہاٹ واقعے میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کی اور سیکیورٹی فورسز نے آپریشن میں تمام دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔
خیبرپختونخوا حکومت سے امن و امان کے فنڈز کا حساب مانگ لیا
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو ملنے والے امن و امان کے فنڈز کا حساب دینا ہوگا، جبکہ این ایف سی کے تحت صوبے کو ملنے والے اضافی فنڈز کہاں خرچ ہوئے، اس کا جواب بھی دینا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت این ایف سی کے اضافی 150 ارب روپے سوشل میڈیا ٹیموں پر اڑا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات پر صوبائی حکومت سے سوال بنتا ہے اور اپنے صوبے میں آگ لگی ہو تو سیاسی انتشار سے گریز کرنا چاہیے۔
سڑکوں، پلوں اور پولیس کے لیے فنڈز کا سوال
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ موٹر ویز اور کوہاٹ ٹنل نواز شریف کے ترقیاتی منصوبے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے سوال کیا کہ ایسی ایک ٹنل بتائی جائے جس سے فاصلے کم ہوئے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں نہ سڑکیں بنیں، نہ پل اور نہ اسپتال۔ خیبرپختونخوا پولیس کو ہتھیار اور تربیت کا فنڈ کہاں گیا؟ ساڑھے 12 سال کا حساب صوبائی حکومت کو دینا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا میں سی ٹی ڈی کی نئی فورس کیوں نہ بن سکی اور فرانزک لیب کیوں قائم نہیں کی گئی۔ ان کے مطابق فرانزک لیب کا سامان پنجاب بھیجا جاتا ہے، فنڈ موجود ہے۔ خیبرپختونخوا میں وسائل نہیں بلکہ نیت کی کمی ہے۔
قدرتی وسائل اور معدنیات کے ٹھیکوں کی تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ صوبائی حکومت کی توجہ مائنز کے ٹھیکوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قدرتی وسائل کے ٹھیکوں اور آمدن کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سوات کے پہاڑوں کی کٹائی اور درختوں کی غیر قانونی کٹائی کا جواب دیا جائے۔ گولڈ مائننگ کے ٹھیکے کس کو دیے گئے، صوبائی حکومت جواب دے، جبکہ گولڈ مائننگ سے کتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کی مکمل تفصیلات بھی دی جائیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ٹمبر مافیا سے متعلق ٹھیکوں اور ٹیکس کی تفصیلات عوام کو بتانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی وسائل سے حاصل آمدن عوام کی ترقی پر خرچ ہونی چاہیے۔ معدنیات، ٹمبر اور تمباکو سے حاصل ٹیکس صوبے کی ترقی پر لگایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈز مانگنے سے پہلے صوبائی حکومت اپنے وسائل کا حساب دے۔
اسلام آباد آنے والوں کو اسلحے اور ڈنڈوں کے ساتھ اجازت نہیں دیں گے
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ کسی کو اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسلام آباد آنے والوں کو اسلحے اور ڈنڈوں کے ساتھ اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کو اسلام آباد کو سومنات بنانے کے بیان پر معافی مانگنی چاہیے۔ ان کے پاس دھرنے کی تیاری کے لیے وقت ہے، مگر شہدا کے خاندانوں کے پاس جانے کا وقت نہیں۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع
ان کا کہنا تھا کہ سہیل خان آفریدی کچھ نہیں کر سکتے تو کرسی چھوڑ دیں۔ کرسی عوام کی خدمت کے لیے ہے، جنازہ نہیں کہ اٹھائے پھریں۔ صوبے میں امن کے لیے مل کر بھرپور کوششیں کریں گے۔














