پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج، اسلام آباد میں سیکیورٹی پلان تیار، کنٹینرز پہنچنا شروع

منگل 15 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑے احتجاج اور جماعت اسلامی کی جانب سے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر 20 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی طرف مارچ کے اعلان کے بعد اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ نے سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں اور بڑے اجتماعات سے نمٹنے کے لیے اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے جامع سیکیورٹی پلان پر کام جاری ہے، جبکہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں، اہم شاہراہوں، ریڈ زون اور ہائی سیکیورٹی زون کے اطراف بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچائے جا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے نام پر ڈالر کمانے والے وی لاگرز سے لانگ مارچ کے لیے مالی تعاون کی اپیل

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے پیش نظر ایک ہزار سے زیادہ کنٹینرز کا انتظام کیا جا رہا ہے، جن میں سے سینکڑوں کنٹینرز مختلف اہم مقامات پر پہلے ہی پہنچائے جا چکے ہیں، جبکہ مزید کنٹینرز کی دستیابی کے لیے متعلقہ ٹھیکیداروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد کے اہم داخلی راستوں اور شاہراہوں پر ضرورت کے مطابق کنٹینرز لگا کر آمدورفت کو محدود یا بند کیا جا سکتا ہے۔ روات، 26 نمبر چونگی، فیض آباد، ترنول، مارگلہ ایوینیو اور ڈی چوک سمیت دیگر اہم مقامات پر کنٹینرز رکھنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق ماضی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم شاہراہوں اور داخلی راستوں پر متبادل ٹریفک انتظامات بھی زیر غور ہیں تاکہ ممکنہ احتجاج کے دوران شہر میں ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار رکھا جا سکے اور حساس مقامات تک رسائی محدود رکھی جا سکے۔

ذرائع کے مطابق ریڈ زون اور اہم سرکاری تنصیبات کی سیکیورٹی کے لیے تین حصاری سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے۔ حساس سرکاری عمارتوں، سفارتی علاقے، اہم تنصیبات اور ریڈ زون کے داخلی راستوں پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کی جائے گی۔

ممکنہ طور پر ریڈ زون میں داخلے اور آمدورفت کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی جبکہ اہم داخلی راستوں پر چیکنگ اور نگرانی کے انتظامات بھی بڑھائے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد پولیس کے نئے کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر سے شہر کی مجموعی صورتحال کی براہ راست نگرانی کی جائے گی۔

آئی جی اسلام آباد سمیت پولیس کے اعلیٰ حکام احتجاج کے دوران مختلف علاقوں کی صورتحال، ٹریفک، سیکیورٹی اور پولیس نفری کی تعیناتی کو مانیٹر کریں گے۔ کیمروں اور دیگر نگرانی کے ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ضرورت کے مطابق فوری فیصلے کیے جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس کے انسداد ہنگامہ آرائی یونٹ کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ضروری آلات، حفاظتی سامان اور دیگر وسائل کی دستیابی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے شیلز اور دیگر انسداد ہنگامہ آرائی کے سامان کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اضافی پولیس نفری کی تعیناتی اور مختلف یونٹس کو ضرورت کے مطابق متحرک رکھنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں سیکیورٹی اداروں کو سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ احتجاج سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کا عمل مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

انٹیلی جنس ونگز اور اسپیشل برانچ کو سیاسی رہنماؤں، کارکنوں اور ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں سے متعلق صورتحال پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے، جبکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے قبل معلومات متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لیے رابطہ کاری کا نظام فعال رکھنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب پنجاب حکومت نے دہشتگردی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر صوبے بھر میں 13 سے 17 ستمبر تک ہر قسم کے اجتماعات پر 5 روز کے لیے پابندی عائد کردی ہے۔

13 ستمبر کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق امن و امان اور جان و مال کو لاحق سنگین خطرات کے پیش نظر پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے۔

نوٹیفکیشن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کو موصول ہونے والی فوری نوعیت کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دہشتگرد تنظیمیں عوامی اجتماعات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر سکتی ہیں۔

حکومت کے مطابق جلسوں، ریلیوں، مجالس، دھرنوں، جلوسوں اور مظاہروں کی صورت میں بڑے اجتماعات ممکنہ دہشتگرد حملوں کے لیے آسان ہدف بن سکتے ہیں۔

اسلام آباد میں بڑی تعداد میں کنٹینرز منگوانے اور انہیں ممکنہ طور پر سڑکوں کی بندش کے لیے استعمال کیے جانے پر مال بردار ٹرانسپورٹرز نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن نے اسلام آباد پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں اور کنٹینرز کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ کیا جائے، کیونکہ اس سے کاروباری سرگرمیاں اور سپلائی کا نظام متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید پڑھیں: لانگ مارچ کی تیاری ناکافی، پی ٹی آئی پنجاب کا 27 ستمبر کا پلان مؤخر کرنے کا مطالبہ

ذرائع کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کی انتظامیہ احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، حساس مقامات کی حفاظت اور شہریوں کی معمول کی نقل و حرکت کو ممکن حد تک برقرار رکھنے کے لیے مختلف انتظامی آپشنز پر غور کررہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اقدامات کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے، اہم سرکاری تنصیبات اور حساس علاقوں کی حفاظت اور دارالحکومت میں امن و امان برقرار رکھنا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ماضی میں اسلام آباد نے بیک وقت کتنے احتجاج دیکھے؟

1980 فوٹو اے آئی ٹرینڈز: تصویریں بنانے کا شوق کہیں آپ کا فون اور ذاتی ڈیٹا ہیکرز کے حوالے تو نہیں کررہا؟

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

نئے انتظامی یونٹ: پیپلز پارٹی کیوں غصے میں ہے؟

ویڈیو

پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کو وفاق سے ملنے والے 22 ہزار ارب روپے عوام پر خرچ نہیں ہوئے، رکن صوبائی اسمبلی نجم مرزا

اپوزیشن کو گنجائش دی جائے تو 27 ستمبر کو لانگ مارچ جیسے حالات سے بچا جا سکتا ہے، فواد چوہدری کا حکومت کو مشورہ

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘